رسائی کے لنکس

ضلع صوابی کے علاقے یار حسین میں یہ خواجہ سرا شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ لگ بھگ چھ افراد نے انھیں روکا اور اپنے ساتھ چلنے کے لیے زبردستی کی۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دو خواجہ سراؤں کو ہلاک کر دیا جب ک ایک کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ضلع صوابی کے علاقے یار حسین میں یہ خواجہ سرا شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ لگ بھگ چھ افراد نے انھیں روکا اور اپنے ساتھ چلنے کے لیے زبردستی کی۔

خواجہ سراؤں کے انکار پر ان افراد نے فائرنگ کر دی جس سے دو خواجہ سرا موقع پر ہلاک ہو گئے جب کہ تیسرے کے ساتھ ان افراد نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی اور اسے کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے۔

مقامی پولیس کے ایک عہدیدار ظاہر شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے کارروائی کر کے چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

"یہ دو لوگوں کو اپنے ساتھ زبردستی لے گئے تھے انھیں بھی بازیاب کروا لیا گیا اور ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔۔۔یہ جرائم پیشہ لوگ تھے۔"

خیبر پختونخواہ میں شدت پسند اکثر رقص و موسیقی سے وابستہ افراد پر حملوں میں ملوث رہے ہیں لیکن اس تازہ واقعے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور بظاہر یہ جنسی ہوس کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

پاکستان میں خواجہ سرا جنہیں عرف عام میں ہیجڑا بھی کہا جاتا ہے، کے لیے حالیہ برسوں میں قومی شناختی کارڈ میں جنس کا تیسرا خانہ وضع کرنے کے علاوہ انھیں مختلف شعبوں میں ملازمتیں بھی دی جا رہی ہیں لیکن مجموعی طور پر ان کے خلاف امتیازی سلوک کی شکایات اکثر منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔

2013ء میں اس جنس سے تعلق رکھنے والے چند لوگوں نے عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ بھی لیا لیکن یہ نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

خواجہ سراؤں کا یہ موقف رہا ہے کہ جب تک ان کے بارے میں سماجی رویوں میں تبدیلی اور انھیں بحیثیت عام انسان تسلیم کرنے کی سوچ پروان نہیں چڑھے گی ان کے خلاف امتیازی سلوک کے واقعات جنم لیتے رہیں گے۔

خواجہ سراؤں کی ایک بڑی تعداد ناچ گانے سے ہی اپنی گزر اوقات کرتی ہے اور روایتی طور پر شادی بیاہ اور بچے کی پیدائش کے موقع پر ان لوگوں کو تقریب میں بلانے کا رواج چلا آ رہا۔

XS
SM
MD
LG