رسائی کے لنکس

پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ


پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ

پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ

عالمی ادارے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بدعنوان ترین ممالک کی فہرست منگل کو جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی میں نمایا ں اضافہ ہوا۔ پاکستان بدعنوان ممالک کی فہرست میں آٹھ درجے گر کر 42 ویں سے 34ویں نمبر پر آگیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین عادل گیلانی نے بتایا کہ ملک میں ماسوائے موٹروے پولیس اور نادرا کے، ہر ادارے میں کرپشن ہو رہی ہے ۔ اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان میں پچھلے ایک سال کے دوران سرکاری شعبو ں میں مبینہ طور پر300ارب روپے کی بدعنوانی کی گئی۔

عادل گیلانی نے بتایا کہ ملک کو قومی مصالحتی آڑدیننس کی وجہ سے بہت نقصان ہوا اور گذشتہ دو سالوں کے دوران سرکاری اداروں میں اربوں روپے مالیت کے بدعنوانی کے کئی واقعات سامنے آنے کے باوجود حکومت کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوششوں میں کمی کی وجہ سے سپریم کورٹ نے تو ان معاملا ت کے خلاف کارروائی کی لیکن احتساب کا قومی ادارہ نیب غیر فعال رہا۔

حکومت نے فوری طور پر اس رپورٹ پر اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم کراچی میں وزیر اعظم گیلانی نے اس بارے میں صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اُنھوں نے ابھی تک یہ رپورٹ نہیں دیکھی۔

رپورٹ میں صومالیہ کو بدعنوان ترین ملک قرار دیا گیا ہے جب کہ افغانستان اور میانمار مشترکہ طور پر دوسرے جب کہ عراق تیسرے نمبر پر ہے۔ بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی اور کرپشن میں کمی کے لیے شفافیت اور احتساب ہی واحد طریقہ ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکی کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد کے لیے امداد کے شفاف استعمال کے لیے یوایس ایڈ نے ایک معاہدے کے تحت ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کو نگران مقرر کیا ہے اور اس کے لیے یہ تنظیم جلد ہی کراچی میں ایک ہاٹ لائن بھی قائم کرے گی۔

XS
SM
MD
LG