رسائی کے لنکس

نقل مکانی کرنے والوں کی قبائلی علاقوں میں واپسی کا عمل جاری

  • یاسر علی منصوری

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ نے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کاری کے لیے تعمیر نو، قیام امن اور پائیدار ترقی کے منصوبوں پر مشتمل مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی حکام اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بد امنی کے باعث نقل مکانی کرنے والے تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار خاندان حالیہ برسوں میں محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) گزشتہ کئی برسوں سے شدت پسندی کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے تین لاکھ سے زائد خاندان یہاں سے نسبتاً محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

حکومت کی ہدایت پر فوج نے بھرپور کارروائیاں کرکے ان علاقوں کے بیشتر حصوں میں ریاست کی عمل داری بحال کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور پر امن علاقوں میں لوگوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔

قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے کے سرکاری ادارے ’فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل ارشد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بقیہ خاندانوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ لوٹنے والے افراد کو اپنے معمولات زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مدد کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہے۔

ارشد خان نے بتایا کہ واپس جانے والے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے مکانات کی تعمیر نو کو ترجیح دی جائے۔

’’بحالی میں مدد سے متعلق حکمت عملی (ریکوری اسسٹنس فریم ورک) کے لیے ہم ڈونرز سے جس فنڈنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں اس میں 70 فیصد مکانات/شیلٹر کے لیے ہے۔ اس کے بعد دیگر معاملات ہیں مثلاً زراعت کا فروغ، مویشیوں کی تقسیم، مقامی آبادی کے لیے ذرائع معاش کو بڑھانا، اور ساتھ ہی ساتھ پانی کی فراہمی، تعلیم اور صحت وہ شعبے ہیں جن کو ہم ترجیح دے رہے ہیں۔‘‘
ارشد خان

ارشد خان



ارشد خان نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی بحالی کے عمل میں حکومتِ پاکستان کی معاونت کرنے والے ممالک کے ایک نمائندہ وفد کو حال ہی میں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کا دورہ کروایا گیا تاکہ انھیں زمینی صورت حال اور متاثرین کی ضرورتوں کا بہتر طور پر اندازہ ہو سکے۔

قبائلی علاقوں کے اُمور کی نگرانی کرنے والے سرکاری ادارے فاٹا سیکرٹریٹ اور اقوامِ متحدہ نے اس دورے کا اہتمام کیا تھا۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عہدے دار ٹیمو پکالا کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد کاری کے لیے تعمیر نو، قیام امن اور پائیدار ترقی کے منصوبوں پر مشتمل مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے طویل المدت حل کے لیے تنازعات میں کمی اور متاثرین کی دوبارہ آباد کاری کے عمل میں بین الاقوامی شراکت داروں کی زیادہ شمولیت پر زور دیا۔
XS
SM
MD
LG