رسائی کے لنکس

دہشت گردی قبائلی عوام کے لیے بھی بڑا مسئلہ


دہشت گردی قبائلی عوام کے لیے بھی بڑا مسئلہ

دہشت گردی قبائلی عوام کے لیے بھی بڑا مسئلہ

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے یعنی فاٹا کے بارے میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے اپنے حالیہ سروے میں کہا ہے کہ ان علاقوں تک رسائی میں دشورای کے باعث وہاں بسنے والوں کے بارے میں مکمل معلومات کا نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے ۔ کیمپ ”CAMP“ نامی تنظیم کے سربراہ نوید شنواری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فاٹا کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اُن کے بارے یہ تاثر غلط ہے کہ تمام قبائلی طالبان کے حامی ہیں اور وہ صرف لڑنا چاہتے ہیں۔ نوید شنواری کا کہنا ہے سروے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ فاٹا کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ خود بھی خودکش حملوں اور دہشت گردی کے خلاف ہیں۔

سروے میں سات قبائلی اوران سے ملحقہ تین نیم قبائلی علاقوں میں 4000 افراد کو شامل کیا گیاجن میں سے 40 فیصد خواتین تھیں۔ رپورٹ کے مطابق 55.3 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ پاکستان میں حالات بے روزگاری،امن وامان کی صورتحال سمیت دیگر اہم قومی معاملات کے حوالے سے درست سمت کی طرف نہیں جارہے ہیں اور ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ ملک کو درپیش بڑے چیلنجوں میں دہشت گردی اور امن وامان کی خراب صورتحال ہے ۔

قبائلیوں کی ایک بڑی تعدادکا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح امن وامان کی بحالی اور عام آدمی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہونی چاہیے جب کہ سروے میں شامل افراد نے اپنے علاقوں کی ترقی اوربچوں کو تعلیم کی سہولیات کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

گو کہ سروے میں کہا گیا ہے کہ قبائلیوں کی ایک بڑی اکثریت شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے حق میں نہیں تاہم صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے ان اندازوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو نہ صرف قبائلی عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے بلکہ مقامی آبادی کے اصرار پر انتہاپسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اُس نے قبائلی علاقوں میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات کی منظور ی گذشتہ سال 14 اگست کو دے دی تھی جس کے تحت نہ صرف پہلی مرتبہ فاٹا میں سیاسی جماعتوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی گئی بلکہ 100 سال سے زائد پرانے قانون فرنٹیئر کرائم ریگولیشن یعنی ”ایف سی آر “ میں بھی قبائلیوں کی مشاورت کے ساتھ ترامیم کا کام جاری ہے جو آخری مراحل میں ہے ۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے فاٹا کے لیے اعلان کردہ اصلاحات پر عمل درآمد تاحال شروع نہیں ہوسکا ہے تاہم صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ان علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ہے لیکن حکومت نے اپنے طور پر اس حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کررکھی ہیں اورفاٹا میں امن واما ن کی صورت حال میں بہتری آنے کے فوراً بعد مقامی نمائندوں کی مدد سے نافذالعمل کرادیا جائے گا۔
فاٹا کے علاقے نہ صرف اندرون ملک بلکہ دنیا بھرکی توجہ کامرکز بنے ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اپنا بھرپور آپریشن شروع کررکھا ہے اور عالمی برادری خصوصاً امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ خطرناک شدت پسندوں کی آماجگا ہ ہیں جنہیں ختم کرنے کے لیے وہ بھی پاکستانی حکومت کی بھرپور معاونت کررہے ہیں جس میں مالی امداد کے ساتھ ساتھ جدید اسلحے کی فراہمی بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG