رسائی کے لنکس

خیبرایجنسی: افغانستان سفر کے لیے ویزہ ضروری ہو گا

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہ زرعلی خان آفریدی نے وائس آف امریکہ امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس فیصلے سے قبائلی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نے قبائلیوں سے کہا ہے کہ 31 جنوری 2017 کے بعد کسی بھی قبائلی کو بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے سرحد پار افغانستان جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس سلسلے میں خیبر ایجنسی کے سرحدی قصبہ لنڈی کوتل میں انتظامی اور فوجی حکام نے باقاعدہ نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ کسی بھی پاکستانی شہری کا افغانستان جانے یا پڑوسی ملک سے واپس پاکستان داخلے کے لیے صرف قومی شناختی کارڈ قابل قبول نہیں ہو گا اور صرف اُنھی قبائلیوں کو افغانستان جانے دیا جائے گا جن کے پاس افغانستان سفر کے لیے ویزہ ہو گا۔

انتظامیہ کے طرف سے متنبہ کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ خیبر ایجنسی اور پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائل اب تک بغیر ویزے کے پڑوسی ملک افغانستان کا سفر کرتے تھے۔

پاکستان افغانستان سرحد کے دونوں جانب آباد قبائل میں اکثریت ایک دوسرے کے ساتھ رشتوں میں بھی منسلک ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ویزے اور پاسپورٹ کی شرط پچھلے چند مہینوں سے عائد کرنے سے سرحد کے آر پار رہائش پذیر قبائلیوں کے مابین تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہے۔

تاہم قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہ زرعلی خان آفریدی نے وائس آف امریکہ امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس فیصلے سے قبائلی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور اس طرح کی پابندیاں اُنھیں قبول نہیں ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی راستوں کے ذریعے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایک سے دوسرے ملک سفر کرتے ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان کی طرف سے پاک افغان سرحد کی نگرانی کو بہتر بنانے کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے متعدد اقدام کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG