رسائی کے لنکس

پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ترک اساتذہ کی ملک بدری 'موخر'

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

عدالت عالیہ میں درخواست گزاروں کے وکیل قاضی محمد انور نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ 68 طلبا کے والدین اور نو ترک اساتذہ کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے۔

پشاور ہائی کورٹ نے پاک ترک اسکول کے غیر ملکی عملے کو پاکستان بدر کرنے کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

رواں ماہ ہی وفاقی حکومت نے پاک ترک اسکولز اینڈ کالجز کے ترک عملے کے ویزے میں توسیع نہ کرتے ہوئے انھیں 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف ترک عملے اور اسکول کے طلبا کے والدین کی طرف سے عدالتوں سے رجوع کیا گیا۔

بدھ کو ایسی ہی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا اور یکم دسمبر تک ترک عملے اور ان کے خاندان کو پریشان نہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔

عدالت عالیہ میں درخواست گزاروں کے وکیل قاضی محمد انور نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ 68 طلبا کے والدین اور نو ترک اساتذہ کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے بغیر وجہ بتائے ترک شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا۔

"نہ تو ان پر کوئی دہشت گردی کا الزام ہے نہ ان کی کوئی ایسی سرگرمی ہے جس میں کہا جائے کہ یہ پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے تو وجہ بتائے بغیر آپ کیسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ نو سال تک تو ہم ان کی توسیع کرتے رہے اب بغیر کوئی وجہ بتائے ان کو کہا گیا کہ تین دن میں نکل جائیں۔"

قاضی انور نے بتایا کہ اس وقت ان اساتذہ کے ملک چھوڑ کر چلے جانے سے طلبا کا تعلیمی مستقبل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

"میں نے عدالت سے کہا کہ بچوں کی تعلیم میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔۔۔یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے اور ایسے وقت میں جب سیشن آدھا گزر چکا ہے اب ان اساتذہ کو کہا گیا کہ وہ چلے جائیں۔"

معاملے کی آئندہ سماعت یکم دسمبر کو ہوگی۔

ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ جولائی میں ہونے والی ناکام بغاوت کی منصوبہ بندی جلاوطن مبلغ فتح اللہ گولن نے کی اور ان سے وابستہ تنظیمیں نہ صرف ترکی بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

گولن ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ان کا بغاوت سے کسی بھی طور کوئی تعلق نہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے قائم پاک ترک اسکولز بھی فتح اللہ گولن کی تنظیم سے وابستہ ہیں لیکن اسکول کی انتظامیہ اس سے انکار کرتی ہے۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے ترک عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم ایسے وقت دیا گیا تھا جب گزشتہ ہفتے ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کا دورہ کیا اور اپنے اس دورے میں انھوں نے پاکستانی حکومت کے اس فیصلے کو سراہا تھا۔

XS
SM
MD
LG