رسائی کے لنکس

قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے دو ملزمان کو عمر قید کی سزا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف پاکستان کے ایوان بالا کی طرف سے منظور کیے جانے والے قانون کے بعد سامنے آنے والی یہ پہلی سزائیں ہیں۔

پاکستان میں ایک عدالت نے قصور میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعے میں ملوث دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس واقعے کے بعد پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

پنجاب کے ضلع قصور میں گزشتہ سال یہ خبر منظر عام پر آئی تھی کہ یہاں بچوں کے ساتھ نہ صرف جنسی زیادتی کی جاتی رہی ہے بلکہ ان کی وڈیوز بنا کر ان کا اور ان کے خاندانوں کا استحصال بھی کیا گیا۔

پیر کو لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو ملزموں حسیم عامر اور فیضان کو عمر قید کے علاوہ تین، تین لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد بھی کیا۔

بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف پاکستان کی پارلیمان کی طرف سے ترمیمی بل منظور کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ اس کے تحت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس قانون میں بچوں کے جنسی وڈیو بنانے کو بھی قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا تھا۔

گزشتہ اگست میں ضلع قصور کے علاقے حسین آباد سے تعلق رکھنے والے 270 سے زائد بچوں کو کئی برسوں تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے گینگ کا انکشاف ہوا تھا۔

ملزمان ان بچوں کی وڈیو بنا کر ان کے خاندانوں سے رقوم بھی بٹورتے رہے۔

XS
SM
MD
LG