رسائی کے لنکس

پھانسیوں پر عملدرآمد پر گزشتہ چھ سال سے عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد سے جمعہ تک 27 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

پاکستان کے شہر فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں جمعہ کو علی الصبح سزائے موت کے دو مجرموں کو پھانسی دے دی گئی۔

مجرم محمد اختر اور ساجد علی عرف تارو کی اپنی سزا کے خلاف اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق محمد اختر نے 1999ء میں ایک خاتون سے جنسی زیادتی کی کوشش کی اور منع کرنے پر اس خاتون کے سسر کو قتل کر دیا تھا۔

دوسرے مجرم ساجد نے ذاتی دشمنی پر 2000ء میں ایک خاتون کو قتل اور اس کے شوہر کو زخمی کیا تھا۔

پاکستان میں مختلف جرائم میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی پھانسیوں پر عملدرآمد دوبارہ بحال کیے جانے کے بعد مختلف جیلوں میں قید مجروں کی سزاؤں پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔

گزشتہ دسمبر میں وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے پھانسیوں پر عملدرآمد پر گزشتہ چھ سال سے عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد سے جمعہ تک 27 مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

اولاً صرف دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرموں کو پھانسی دینے کا کہا گیا تھا جب کہ رواں ہفتے ہی وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ہاں جیلوں میں بند دیگر تمام جرائم میں بھی سزائے موت پانے والوں کی پھانسیوں پر عملدرآمد کے لیے قانونی کارروائیاں مکمل کریں۔

انسانی حقوق کی مقامی و بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے پھانسیوں پر عملدرآمد بحال کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت اور اسے واپس لینے کے مطالبات کے باوجود حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش مخصوص حالات میں قانون کے مطابق ملنے والی سزاؤں پر عملدرآمد ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG