رسائی کے لنکس

ہفتے میں دو چھٹیوں کے فیصلے پر تنقیدی بحث کا آغاز ، عمل درآمد بظاہر مشکل


ہفتے میں دو چھٹیوں کے فیصلے پر تنقیدی بحث کا آغاز ، عمل درآمد بظاہر مشکل

ہفتے میں دو چھٹیوں کے فیصلے پر تنقیدی بحث کا آغاز ، عمل درآمد بظاہر مشکل

ہفتے میں دو چھٹیاں کرنے کا فیصلہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے سبق یاد نہ کیا ہو اور وہ اسکول سے چھٹیاں کرلے: چودھری نثار

پاکستان کی وفاقی کابینہ کی جانب سے ہفتے میں دوچھٹیوں کی منظوری پرتنقیدی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ اگرچہ اِس فیصلے پرعمل درآمد میں ابھی تین دن باقی ہیں لیکن ابھی سےاس فیصلے پر ہر جگہ چھڑنے والی بحث کو سن کر مبصرین کو لگتا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی جماعتیں اٹھالیں گی اورحسب روایت یہ معاملہ بھی سڑکوں پر احتجاج کا باعث بن سکتا ہے۔

فیصلے کی رو سے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ہفتے میں دوچھٹیاں کی جائیں گی۔ تجارتی مراکز کو سرشام بند کرنا ہوگا، اشتہاری بل بورڈز کو سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بند کردیاجائے گا، اسٹریٹ پولز پر بلب کی جگہ انرجی سیور لگائے جائیں گے جبکہ شادی گھروں کو رات دس بجے بند کردیا جائے گا ۔ مبصرین کے مطابق مختصر وقت میں بہت زیادہ تنقید سے لگ رہاہے کہ ان فیصلوں پر عمل درآمد بظاہر مشکل ہے۔

بغور جائزہ لیا جائے تو ان تمام فیصلوں کا اثر تجارتی طبقے پر پڑے گا اور اسی طبقے نے سب سے زیادہ دو چھٹیوں کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔کر اچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابرار احمد نے ہفتہ وار2چھٹیوں کی تجویز کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔

ادھر مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ہفتے میں دو چھٹیاں کرنے کا فیصلہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے سبق یاد نہ کیا ہو اور وہ اسکول سے چھٹیاں کرلے۔ چوہدری نثار نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں 130 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ کو ختم کیا جائے اور زیر التوا منصوبوں پر کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چھٹیوں سے پاکستان کی معیشت مزید خرابی کی طرف جائے گی۔

دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابرار احمد کا میڈیا پر آکر کہنا تھا کہ انرجی کنزویشن کے نام پر ہفتے میں 2 چھٹیاں قابل عمل نہیں۔معیشت موجودہ صورتحال میں شدید دباؤکاشکارہے اوراس کی بحالی کیلئے سال کے 365دن کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ گیزیٹیڈچھٹیاں بھی کم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہفتہ وار 2تعطیلات کے فیصلے سے صنعتی و تجارتی ، کسٹمز اور پورٹس کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ہفتہ کے روز بینکوں کے بند ہونے کی وجہ سے کاروباری اور صنعتی حلقوں کو شدید دشواریوں کا سامنا رہا۔ بین الاقوامی ممالک میں پریکٹس ہے کہ جب تجارتی و صنعتی سیکٹرز کی سرگرمیاں جاری رہنے کی صورت میں بینک بند نہیں ہوتے لہٰذا، 2چھٹیوں کی تجویز قابل عمل نہیں۔

انھوں نے کہا کہ انرجی کنزویشن اہم ضرورت ہے مگر اس سے صنعتی و تجارتی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونی چاہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت زائد اخراجات کنڑول کرے ، بجلی کی ڈسٹری بیوشن اور لائن کے نقصانات اور چوری پر قابو پایا جائے اورکنزویشن منیجمنٹ سسٹم متعارف کروایا جائے۔

ادھر کراچی کے چھوٹے تاجروں اور تجارتی مراکز کے دکانداروں نے دکانیں سرشام بند کرنے کی تجویز کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ حیدری اور ہارون شاپنگ ایمپوریم جیسے تجارتی مراکز کے دکانداروں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ پچھلے سال یہ فیصلہ اپریل میں شروع اور اکتوبر میں ختم کیا گیا تھا جبکہ اس بار اکتوبر سے اس کا آغاز ہورہا ہے ۔ پچھلی بار بھی اس کے کوئی خاظر خواہ نتائج نہیں نکل سکے تھے کیوں کہ دفاتر سے واپسی کا ٹائم ہی چھ سات بجے کا ہوتا ہے ایسے میں خریداری کس وقت ہوگی۔

XS
SM
MD
LG