رسائی کے لنکس

برطانوی تعلیمی ویزے کے امیدواروں کو محتاط رہنے کی ہدایت


برطانوی تعلیمی ویزے کے امیدواروں کو محتاط رہنے کی ہدایت

برطانوی تعلیمی ویزے کے امیدواروں کو محتاط رہنے کی ہدایت

بیان میں ایجنٹس سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مناسب فیس کے عوض رہنمائی کا کام کریں اور ویزے کی درخواست کے بارے میں کسی قسم کی یقین دہانی نہ کرائیں کیونکہ اس عمل اور فیصلے میں ان کا کوئی کردار یا اختیار نہیں ہے۔ ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ طالب علم ویزے کے بارے میں موجودہ اور پیش آئندہ پوائنٹس بیسڈ سسٹم ٹائر فور کے قوانین کے بارے میں معلومات یوکے بارڈر ایجنسی کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

برطانیہ نے تعلیمی ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی نوجوانوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایجنٹس منتخب کرنے میں خصوصی احتیاط برتیں۔

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں امیدواروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اول تو اُنھیں تعلیمی ویزے کے حصول کے لیے کسی ایجنٹ کی ضرورت نہیں تاہم اگر اضافی رہنمائی کے لیے ایجنٹ کی خدمات درکار ہوں تو وہ اُن کے چناؤ میں محتاط رہیں۔ ہائی کمیشن کے مطابق پاکستانی طلبا کی کثیر تعداد ایجنٹس کے انتخاب میں’ بد احتیاط‘ ہے۔

برطانیہ نے حال ہی میں طالب علموں کے لیے ویزا کے عمل میں اصلاحات کی ہیں جن کا مقصد تعلیمی ویزے پر برطانیہ آکر کام کرنے والے افراد کی طرف سے امیگریشن سسٹم کے غلط استعمال کا تدارک کرنا اور کم تر درجے کے کچھ تعلیمی اداروں کے ہاتھوں مستحق طلبا کو گمراہ ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔”کچھ بدنیت پاکستانی ایجنٹس معصوم طلبا کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نئے نظام کے بارے میں انہیں گمراہ کرتے ہوئے طلبا کو بھاری معاوضے پر جعلی ویزا کی پیشکش کررہے ہیں۔“

ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ ایسے ایجنٹس کی مشاورت کے نتیجے میں جمع کرائی گئی ویزا درخواست نامکمل یا غلط ہونے کی وجہ سے نہ صرف عمل میں تاخیر بلکہ مسترد ہونے کا باعث بنتی ہے۔ جب کہ ان ایجنٹس کی وجہ سے جمع کرائے گئے جعلی دستاویزات امیدوار کے لیے برطانیہ کے سفر پر 10سالہ پابندی کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ ”ہم امیدواروں سے بدنیت ایجنٹس کے بارے میں پولیس کو مطلع کرنے کی بھی درخواست کرتے ہیں۔“

بیان میں ایجنٹس سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مناسب فیس کے عوض رہنمائی کا کام کریں اور ویزے کی درخواست کے بارے میں کسی قسم کی یقین دہانی نہ کرائیں کیونکہ اس عمل اور فیصلے میں ان کا کوئی کردار یا اختیار نہیں ہے۔

ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ طالب علم ویزے کے بارے میں موجودہ اور پیش آئندہ پوائنٹس بیسڈ سسٹم ٹائر فور کے قوانین کے بارے میں معلومات یوکے بارڈر ایجنسی کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت پاکستانی طالب علموں کے کردار کو سراہتے ہوئے مستحق امیدواروں کے برطانیہ میں حصول تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

پاکستان میں برطانوی امیگریشن سسٹم میں گذشتہ سال کے دوران کافی بہتری آئی ہے۔ 2010 کے اوائل میں ویزا جاری کیے جانے کی اوسط مدت آٹھ سے بارہ ہفتے تھی لیکن اب پندرہ دن کے ہدف میں یہ ویزے جاری ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG