رسائی کے لنکس

ویزہ اسکینڈل: پاکستانی نژاد برطانوی شہری کی حوالگی کا مطالبہ

  • اسلام آباد

پاکستان نے اولمپک ویزہ اسکینڈل سے متعلق برطانوی جریدے ’دی سن‘ کی رپورٹ کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ملک کو بدنام کرنا تھا۔

وفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پر ہجوم نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ برطانوی جریدے میں شائع ہونے والی خبر کے بعد اندرون ملک اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ تیار کر لی ہے۔

برطانوی جریدے ’دی سن‘ نے رواں ہفتے شائع ہونے والی رپورٹ میں پاکستان میں سرگرم ایسے گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو بھاری معاوضوں کے عوض لوگوں کو جعلی دستاویزات پر اولمپکس کے لیے قومی دستے کا رکن ظاہر کرکے لندن بھجوانے میں ملوث ہے۔

لیکن وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ’’سن نے (جو خبر دی) میں سمجھتا ہوں کہ صرف اور صرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے کی۔‘‘

رحمٰن ملک نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم نے مکمل جانچ کے بعد اس اسکینڈل کے مبینہ مرکزی کردار پاکستانی نژاد برطانوی شہری علی اسد کی پاکستان آمد اور شناختی کارڈر کے حصول کے لیے اس کی جانب سے جمع کرائی گئی تمام معلومات حاصل کر لی ہے اور ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کے سلسلے میں اس کے خلاف اندرون ملک مقدمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔

’’یم اس کی تہہ تک جائیں گے… اور برطانیہ سے کہیں گے کہ اسے واپس بھیجا جائے تاکہ اس کے خلاف کارروائی کر سکیں۔‘‘

رحمٰن ملک نے برطانوی جریدے کے خلاف پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے اقدام کے طور پر وہاں (برطانیہ) کی جو نیشنل پریس ٹرسٹ ہے اس میں ہم شکایت داخل کرائیں گے۔‘‘

رواں ہفتے یہ اسکینڈل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا تھا جہاں متعلقہ حکام کی تفصلی بریفنگ کے بعد وزرات داخلہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ وزارت قانون کے ساتھ مشاروت کے بعد برطانوی جریدے کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرے۔

دریں اثناء ویزہ اسکینڈل کے ایک مبینہ اہم کردار پاکستانی ٹریول ایجنٹ عابد چوہدری نے ہفتہ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام کے سامنے پیش ہو کر اپنا ابتدائی بیان قلمبند کرایا۔ مگر سرکاری طور پر اس کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
XS
SM
MD
LG