رسائی کے لنکس

پاکستان میں 50 لاکھ بچے بنیادی تعلیم سے محروم


اسلام آباد میں رپورٹ کا اجراء

اسلام آباد میں رپورٹ کا اجراء

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں کمی اور اقتصادی ترقی میں اضافے کے لیے نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیم، سائنس اور ثفافت سے متعلق ادارے یونیسکو کی ’نوجوان اور مہارت‘ کے عنوان سے جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 50 لاکھ بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں جن میں سے 63 فیصد لڑکیاں ہیں۔

اسلام آباد میں جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں کمی اور اقتصادی ترقی میں اضافے کے لیے نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

شعبہ تعلیم کے لیے یونیسکو کے خصوصی معاون ارشد سعید خان نے بتایا کہ پرائمری تعلیم سے محروم بچوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

’’پانچ سے نو سال کی عمر کے پچاس لاکھ بچے اسکولوں میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں خواندگی کی شرح اور پرائمری (تعلیم کی) شرح خطے کے باقی ممالک سے کم ہے۔ جو بچے اسکول میں داخلہ لیتے ہیں ان میں سے صرف 62 فیصد پرائمری پاس کرتے ہیں اور باقی یا تو چھوڑ جاتے ہیں یا پھر فیل ہو جاتے ہیں۔‘‘

ارشد سعید خان کہتے ہیں کہ پاکستان کے قومی بجٹ میں شعبہ تعلیم کے لیے محض دو فیصد فنڈز مختص کیے جاتے ہیں جن میں اضافے کی فوری ضرورت ہے۔

’’رپورٹ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ تعلیم کو عام کیا جائے، حکومت تعلیم کے لیے زیادہ بجٹ مختص کرے اور نصاب کو بہتر کیا جائے۔‘‘

وزرات تعلیم و تربیت کے وفاقی سیکرٹری قمر زمان چودھری بھی رپورٹ کے اجراء کی تقریب میں شریک تھے اور انھوں نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا جس کے تحت ملک میں پانچ سے 14 برس تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

’’وفاقی اور صوبائی حکومتیں نوجوانوں کو فنی تعلیم کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ اور پاکستانی عہدیداروں نے اعتراف کیا کہ تعلیمی اداروں کے خلاف شدت پسندوں کے حملے اور حالیہ سیلابوں کے باعث بچوں کے لیے حصول تعلیم میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG