رسائی کے لنکس

انسدادمنشیات کے لیے پاکستان اور اقوام متحدہ کا چار سالہ منصوبہ


انسدادمنشیات کے لیے پاکستان اور اقوام متحدہ کا چار سالہ منصوبہ

انسدادمنشیات کے لیے پاکستان اور اقوام متحدہ کا چار سالہ منصوبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم ”یو این او ڈی سی“کے اشتراک سے انسدادِ منشیات ، نشہ کے عادی افراد کی بحالی اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف بھرپورقانونی کارروائی کے لیے ایک مربوط منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کے روز اسلام آباد میں اس منصوبے کے باضابطہ آغاز کے لیے منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کے دوران حکومت پاکستان اور عالمی ادارے کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تنظیموں اور عوام کی شمولیت پر خاص توجہ دی گئی ہے۔

وزرات انسداد منشیات کے سیکرٹری طارق کھوسہ نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اس چار سالہ منصوبے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھائی جائے گی تاکہ ملک میں منشیات کی ترسیل کی روک تھام میں بہتری لائی جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ منصوبے کا ایک جز نشے کے عادی افراد کو طبی اور نفسیاتی علاج کی فراہمی بھی ہے جس کے ذریعے منشیات کی طلب میں کمی اور مہلک بیماریوں کے تدارک میں مدد ملے گی۔

طارق کھوسہ

طارق کھوسہ

طارق کھوسہ نے بتایا کہ بلوچستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی ایسی جگہیں جہاں پوست کی کاشت پر قابو پا لیا گیا ہے وہاں لوگوں کو متبادل ذرائع آمدنی مہیا کرنے کے لیے اقدامات کرنا بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔

یو این او ڈی سی کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں منشیات کی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد پاکستان کے راستے سمگل کیا جاتا ہے اور ترسیل کے دوران منشیات کا کچھ حصہ ملک میں استعمال ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں پوست کی کل پیداوار کے90 فیصد کا ذمہ دار افغانستان ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے ایک عہدیدار اسد رضا رضوی نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ انسداد منشیات کی یہ مربوط پالیسی حکومت پاکستان کی 12 وفاقی وزارتوں کے ساتھ مشاور ت کے بعد تیار کی گئی ہے اور اُنھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان اس چار سالہ منصوبے پر کامیابی سے عمل درآمدکر کے دوسرے ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG