رسائی کے لنکس

پاکستان پر مہاجرین کے عالمی معاہدے میں شامل ہونے پر زور

  • حسن سید

منگیشا کوبیڈ

منگیشا کوبیڈ

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یواین ایچ سی آر نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجرین سے متعلق اقوام متحدہ کے 1951ء کے بین الاقوامی معاہدے میں شامل ہوجائے کیونکہ ایسا کرنے سے اس ملک میں قیام پذیر افغان مہاجرین کے لیے” فراخدلانہ “ عالمی امداد کے حصول میں سہولت ہوگی۔

20جون کو مہاجرین کے عالمی دن کے سلسلے میں جمعے کواسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو این ایچ سی آرکے پاکستان میں سربراہ منگیشا کوبیڈ نے اعتراف کیا کہ 1951ء کے کنونشن میں شامل نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے جس باعزت اور محفوظ طریقے سے افغان مہاجرین کی دیکھ بھال اور ان کی وطن واپسی کو یقینی بنایا ہے وہ عالمی قوانین کے عین مطابق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کنونشن میں شامل ہونے سے نہ صرف پناہ گزینوں کے لیے مزید عالمی امداد کی راہ ہموار ہوگی بلکہ پاکستان بہتر طور پر یہ تخصیص کرسکے گا کہ کون سا باشندہ حقیقی طور پر سیاسی پناہ کا طلب گار ہے اور کون غیر قانونی طور پر ہجرت کرکے آیا ہے۔

منگیشا نے اس تاثر کو رد کیا کہ اقوام متحدہ کے کنونشن میں شامل ہونے سے پاکستان اس بات کا پابند ہوجائے گا کہ وہ مہاجرین کو ہمیشہ کے لیے اپنے یہاں پناہ دے یا شہریت دے۔

تقریب میں موجود ریاستوں اور سرحدی علاقوں کے وفاقی وزیر نجم الدین خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت مذکورہ کنونشن میں شامل ہونے پر غور کررہی ہے۔

پاکستان میں اس وقت درج شدہ افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً 17لاکھ ہے جب کہ غیر اندراج شدہ افغانوں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG