رسائی کے لنکس

پناہ گزین بچوں کی تعلیم پر وسائل صرف کرنے کی ضرورت پر زور

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

یو این ایچ سی آر کے سربراہ فلیپو گرانڈی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر ساڑھے چھ کروڑ سے زائد بے گھر ہونے والے افراد میں سے 51 فیصد 18 سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ ایسے میں جب حالیہ ہنگامی صورتحال نے دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم تک رسائی کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں، اسے چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے وسائل مختص کریں۔

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے جمعرات کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع نوشہرہ میں ایک اسکول کا دورہ کیا جسے جرمنی کی معاونت سے بحالی اور تعمیر نو کے بعد جدید سہولتوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر ساڑھے چھ کروڑ سے زائد بے گھر ہونے والے افراد میں سے 51 فیصد 18 سال سے کم عمر کے بچے ہیں اور ان کے بقول یہ صورتحال تعلیم کی فراہمی کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

فلیپو گرانڈی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے بچوں کے لیے وسائل مختص کرنا دونوں ملکوں کے مستقبل اور استحکام کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے برابر ہے۔

انھوں نے افغان پناہ گزین بچوں کو سرکاری اسکولوں تک رسائی دینے پر خیبرپختونخوا کی حکومت کو سراہا۔

تاہم یو این ایچ سی آر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کے عزم کے باوجود پناہ گزین بچوں کے لیے تعلیم کی فراہمی کے لیے وسائل ضرورت سے بہت کم ہیں جس سے ان بچوں کے اسکولوں میں داخلے کی شرح میں کمی اور تعلیم کے معیار میں ابتری دیکھی جا رہی ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے کہا کہ تعلیم ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور صوبائی حکومت نے تعلیم کے شعبے کے لیے آئندہ مالی سال میں 111 ارب روپے سے زائد رقم مختص کی ہے۔

پاکستان میں تقریباً تیس لاکھ افغان باشندے پناہ گزین کے طور پر مختلف شہروں میں رہ رہے ہیں اور حالیہ برسوں میں حکومتی عہدیداروں کے علاوہ دیگر سماجی حلقوں کی طرف سے بھی یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی سے ملک کے وسائل پر پڑنے والا بوجھ مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG