رسائی کے لنکس

حقوق اطفال کے لیے آواز بلند کرنے والے وجاہت علی فاروقی کے نزدیک تشدد اور استحصال کی روک تھام کے علاوہ بچوں کی تعلیم، صحت اور ان کی نشونما کے لیے مناسب ماحول کی فراہمی جیسے معاملات ایسے ہیں جو اب بھی قابل ذکر توجہ حاصل نہیں کر پا رہے۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت بچوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی قانون سازی کے موثر نفاذ اور خصوصاً بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدام کرے۔

اتوار کو دنیا بھر میں بچوں کا عالمی دن منایا گیا اور اس بار اس کا موضوع بھی بچوں پر تشدد کی روک تھام ہی رکھا گیا ہے۔

پاکستان کی حکومت نے رواں سال کے اوائل میں ہی ضابطہ فوجداری میں ترامیم کر کے بچوں پر جنسی حملوں، ان کے جنسی استحصال، ان سے متعلق فحش مواد کی تیاری و ترویج اور بچوں کی اندرون ملک تجارت کو قابل سزا جرم قرار دیا تھا۔

حقوق اطفال کے لیے سرگرم کارکنان یہ کہتے آرہے ہیں کہ پاکستان میں بچوں سے متعلق گزشتہ کئی برسوں سے کوئی مستند جائزہ موجود نہیں ہے جس کی عدم موجودگی میں مسئلے کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدام زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھ سکتے۔

ایک سرگرم کارکن وجاہت علی فاروقی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قانون منظور کر لینا ایک بنیادی چیز ہے جو کہ ان کے بقول پہلے ہی بہت دیر میں وقوع پذیر ہوئی۔

"کسی بھی مسئلے پر بات کرنے اور اجاگر کرنے کے لیے جو سب سے ضروری بات ہے وہ یہ کہ آپ کو پتا ہو کہ وہ مسئلہ ہے کتنا بڑا ہے، ہمیں یہ ہی نہیں پتا کہ کتنے بچے مزدوری کر رہے ہیں کتنے جنسی تشدد کا شکار ہو رہے، کتنوں کا استحصال ہوتا ہے۔ جب آپ کو مسئلے کا ہی پتا نہیں ہوگا تو آپ اس کو کس حد تک حل کر پائیں گے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور دیگر غیر سرکاری ادارے حکومتوں کے ساتھ مل کر بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے آرہے ہیں لیکن سرکار کو ان پر انحصار کم کرتے ہوئے اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

"جو قانون بناتے ہیں ان پر عملدرآمد کے لیے آپ وسائل مختص کریں۔۔۔بہت لمبے عرصے تک این جی اوز اور یو این پر آپ انحصار نہیں کر سکتے کہ وہ آپ کے لیے یونٹس بنائیں گے بھی ان کو چلائیں گے بھی۔"

تاہم موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور حالیہ برسوں میں کیے جانے والے اقدام سے ماضی کی نسبت حقوق اطفال کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

وفاقی وزارت انسانی حقوق کے ڈائریکٹر جنرل حسن منگی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے پہلے کوئی حکمت عملی موجود نہیں تھی لیکن اب قوانین بن چکے ہیں اور حکومت سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس ضمن میں کام کر رہی ہے۔

"نابالغ ملزموں کے لیے اصلاحات کا بل تیار ہو چکا ہے اس کو بھی جلد کابینہ میں پیش کر دیا جائے گا۔۔۔ وفاقی محتسب نے بچوں کے لیے 13 کمشنر بنائے ہوئے ہیں پورے ملک میں ان کا کام یہی ہے کہ بچوں کے ساتھ جو مسائل ہوں ان کو حل کریں، ایک طرف یہ نظام موجود ہے تو دوسری طرف بچوں کے تحفظ کے لیے ادارے بھی موجود ہیں۔"

لیکن حقوق اطفال کے لیے آواز بلند کرنے والے وجاہت علی فاروقی کے نزدیک تشدد اور استحصال کی روک تھام کے علاوہ بچوں کی تعلیم، صحت اور ان کی نشونما کے لیے مناسب ماحول کی فراہمی جیسے معاملات ایسے ہیں جو اب بھی قابل ذکر توجہ حاصل نہیں کر پا رہے۔

XS
SM
MD
LG