رسائی کے لنکس

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف 10 سال بعد شہروں میں رہنے والوں کی تعداد ملک کی مجموعی تعداد کا نصف ہوجائے گی۔۔۔گویا، اس وقت شہروں کی آبادی ’شہد کی مکھی کا چھتہ‘ لگنے لگے گی

پاکستان کے شہری علاقے آبادی کے سخت دباوٴ کا شکار ہیں اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت کراچی، لاہور اور دیگر کئی بڑے شہروں کی گنجان آبادی ’لوگوں کا جنگل‘ محسوس ہوتی ہے، حالانکہ فی الوقت، شہروں میں کل آبادی کا ایک تہائی حصہ مقیم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف 10 سال بعد، شہروں میں رہنے والوں کی تعداد ملک کی مجموعی تعداد کا نصف ہوجائے گی۔۔۔گویا، اس وقت شہروں کی آبادی ’شہد کی مکھی کا چھتہ‘ لگنے لگے گی۔

اس صورتحال میں، شہری آبادی سے پاکستان کو کس قدر چیلنجز درپیش ہوں گے اس کا اندازہ کرتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔

واشنگٹن کے ووڈرو ولسن سینٹر فور اسکالرز سے تعلق رکھنے والے جنوبی ایشیائی امور کے ماہر، مائیکل کوگل مین کے مطابق، اس وقت ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 18 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف 10 سالوں میں صرف شہری آبادی 9کروڑ 40لاکھ ہوجائے گی۔

پاکستان کو شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے درپیش چیلنجز کے بارے میں تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی کی اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ لیکن، دیہاتوں کو چھوڑ کر بڑے شہروں میں رہائش اختیار کرنے کا رجحان پورے ساوٴتھ ایشیا میں سب سے زیادہ پاکستان میں ہے، یعنی تین فیصد۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن کا بھی یہی اندازہ ہے کہ 2025ء تک پاکستان کی آبادی کا نصف حصہ شہروں میں منتقل ہوجائے گا۔ لاہور کی موجودہ آبادی، جو ابھی 70 لاکھ ہے، 2025ء تک ایک کروڑ سے زیادہ ہوجائے گی؛ جبکہ کراچی کی موجودہ آبادی جو ایک کروڑ 30 لاکھ ہے، 2025ء تک ایک کروڑ 90 لاکھ تک جا پہنچے گی۔

لمحہٴفکریہ یہ ہے کہ ملک کے شہر جو اس وقت بھی توانائی کے بحران کا شکار ہیں، آبادی کے بڑھ جانے کے بعد اس کی صورتحال کیا ہوگی؟ ٹریفک سے بھری ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کے زیادہ کرائے شہروں میں رہنے والے غریبوں کی دسترس سے اب بھی باہر ہیں، بعد میں صورتحال اور گمبھیر ہوجائے گی۔

جرمن ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق، ’شہری علاقوں کو نقل مکانی میں تیزی کی وجوہات بہتر روزگار ، سنہری مستقبل، بہتر طبی سہولیات اور جدیدتعلیم ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق، ملک کے کچھ علاقوں میں بدامنی اور خانہ جنگی جیسی صورتحال بھی اس مسئلے میں اضافے کا سبب ہیں۔ لوگ کئی دہائیوں سے جنگی صورتحال کا شکار علاقوں خصوصاً قبائلی علاقوں سے پرامن شہروں جیسے پشاور، کوئٹہ اور کراچی کا رخ کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس صورتحال کے سبب ہی شہری آبادی کو صاف پانی، توانائی، ہاوٴسنگ، تعلیم اور رہائشی سہولتوں کی عدم دستیابی جیسے سنگین جیلنجز کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG