رسائی کے لنکس

پاکستان نے مصر میں تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی اور آئینی معاملات مل کر حل کریں تاکہ ملک میں جمہوری ادارے جلد از جلد بحال ہو سکیں۔

پاکستان نے مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ سے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں مصر کے موجودہ حالات اور تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ جنوری 2011ء میں مصر میں انقلاب کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت کو موجودہ حالات سے شدید دھچکا لگا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مصر پاکستان کا قریبی دوست ملک ہے اور کیوں کہ پاکستان خود بھی ماورائے آئین مداخلت کا شکار رہا ہے اس لیے وہ کسی بھی ملک میں تنازعات کے حل کے لیے فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔

پاکستان نے مصر میں تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانونی اور آئینی معاملات مل کر حل کریں تاکہ ملک میں جمہوری ادارے جلد از جلد بحال ہو سکیں۔

بیان میں پاکستانی حکومت اور عوام کی طرف سے اس اُمید کا اظہار بھی کیا گیا کہ مصر اپنے معاملات کو اس انداز میں حل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا جن سے وہاں سیاسی استحکام، جمہوری تسلسل اور ملک کی ترقی و عوام کی خوشحالی ممکن ہو سکے۔

مصر کی فوج نے صدر محمد مرسی کو تین جولائی کو برطرف کرنے کے بعد سے نظر بند کر رکھا ہے، جبکہ ملک کی اعلٰی ترین عدالت کے چیف جسٹس عدلی منصور کو عبوری صدر بنا دیا گیا تھا۔

محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مصر میں اُن کے حامی اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مصری فوج سے مسٹر مرسی اور اخوان المسلمین کے دیگر ارکان کو رہا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کو رہا نہیں کیا جاتا تو اُن کے خلاف قائم مقدمات کا بغیر کسی تعطل کے شفافیت سے جائزہ لیا جائے۔

امریکہ سمیت دیگر ممالک بھی مصر کی عبوری حکومت اور فوج سمیت دیگر فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال سے اجتناب کرتے ہوئے ملک میں جمہوری عمل کی بحالی میں کردار ادا کریں۔
XS
SM
MD
LG