رسائی کے لنکس

امریکی ہوائی اڈوں پر پاکستانیوں کی جامہ تلاشی کا’’ فیصلہ تبدیل‘‘


امریکی ہوائی اڈوں پر پاکستانیوں کی جامہ تلاشی کا’’ فیصلہ تبدیل‘‘

امریکی ہوائی اڈوں پر پاکستانیوں کی جامہ تلاشی کا’’ فیصلہ تبدیل‘‘

امریکہ نے پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ امریکی ہوائی اڈوں پر پاکستان سمیت دنیا کے14 ملکو ں سے آنے والے شہریوں کی خصوصی مشینوں کے ذریعے سکریننگ یا جامہ تلاشی کا فیصلہ واپس لیا جا رہا ہے توقع ہے کہ جمعہ کوواشنگٹن میں اس کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط

وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹریو میں بتایا کہ جمعہ کو امریکی کانگریس کی رکن شیلا جیکسن اور پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ایک ملاقات میں اُنھیں امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ اُن کی معلومات کے مطابق امریکی انتظامیہ اس قانون کو منسوخ کر چکی ہے اور اب اس کا صرف باضابطہ اعلان کرنا باقی ہے۔

عبدالباسط کے بقول” امتیازی“ اقدامات کا ہٹ جانا ایک مثبت اقدام ہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ سٹریٹیجک ڈئیلاگ میں بھی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس معاملے کوبھرپور انداز میں ا مریکہ کے سامنے اُٹھایا تھااور ترجمان کے مطابق اُسی تناظر میں امریکہ حکام نے یہ فیصلہ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

امریکہ نے پاکستان سمیت 14 ملکوں کے باشندوں کی ہوائی اڈوں پر خصوصی جامہ تلاشی کا نظام گذشتہ سال کرسمس کے موقع پر نائیجیریا کے ایک باشندے کی طرف سے امریکی مسافر جہاز کو تباہ کرنے کی ناکام کوشش کے بعد متعارف کرایا تھا۔ لیکن پاکستان سمیت اس فہرست میں شامل دوسرے ملکوں نے اس پر شدید احتجاج کیا اور مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اس امتیازی قانون کو ختم کیا جائے خصوصاً پاکستانی قیادت کی طرف سے امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں ہر سطح پر یہ مسئلہ اُٹھایا گیا۔

امریکہ کی طرف سے اس قانون کے نفاذ کے بعد پاکستان میں حکومت پر اپوزیشن اور خود اس کی اتحادی پارٹیوں کے طرف سے یہ تنقید زور پکڑتی جارہی تھی کہ امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک دہشت گردی کے خلاف اُس کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG