رسائی کے لنکس

سیاسی تبدیلی سے پاکستان کی حمایت پر کوئی اثر نہیں ہوگا،امریکی سفارتکار

  • حسن سید

سیاسی تبدیلی سے پاکستان کی حمایت پر کوئی اثر نہیں ہوگا،امریکی سفارتکار

سیاسی تبدیلی سے پاکستان کی حمایت پر کوئی اثر نہیں ہوگا،امریکی سفارتکار

امریکی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا یہ عزم ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے جائیں اور انہیں توقع ہے کہ اس ہفتے امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعت رپبلکن کے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھی واشنگٹن کی اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔

طاقت کے توازن میں اس تبدیلی کے تناظر میں پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں ملک کے لیے امریکہ سے فوجی اور غیر فوجی امداد کا حصول آسان نہیں ہوگا باوجود اس کے کہ سینٹ میں اب بھی حکمران ڈیموکریٹس ہی کی اکثریت برقرار ہے۔

تھیوڈور کریگ

تھیوڈور کریگ

اس سوال پر کہ کیا اگلے سال کے شروع تک نئی کانگریس تشکیل پانے کے بعد اسلام آباد کے لیے 7.5 ارب ڈالر کے کیری لوگر بل اور حال ہی میں اعلان کردہ دو ارب ڈالر دفاعی امداد کے پیکج کی سالانہ منظوری میں رکاوٹ ہو سکتی ہے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے نائب سیاسی کونسلر تھیوڈور کریگ نے کہا ’’امریکہ کے سیاسی رہنماؤں میں تدبیری اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس امر پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اقتصادی اور سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مدد کی جائے اور اس کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنایا جائے‘‘۔

کیا کانگریس میں تبدیلی امریکہ کی موجودہ افغان پالیسی یا اس سال دسمبر میں لیے جانے والے پالیسی جائزے پر اثر انداز ہوگی، امریکی سفارتکار کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے اندر طرز حکمرانی اس لحاظ سے منقسم ہے کہ مقنننہ خارجہ پالیسی کی ترجیحات طے کرتی ہے جبکہ کانگریس میں موجود منتخب نمائندے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے فنڈز کی منظوری میں اہم کردارادا کرنے کے علاوہ اپنی رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔

تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ رپبلکن کانگریس میں اپنی پوزیشن مستحکم ہونے کے بعد ان کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کریں گے جو حکومت کی طرف سے افغانستان میں پیش رفت کے لیے کی جائیں گی۔

تنویراحمد خان

تنویراحمد خان

جبکہ دوسری طرف سابق سفیر اور تجزیہ کار تنویر احمد خان کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں رپبلکن کی برتری کے بعد اوباما انتظامیہ کو افغان پالیسی پر دباؤ کا سامنا ہوگا اور ان کے مطابق حزب اختلاف کی کوشش ہوگی کہ کابل میں امریکی فوج کی موجودگی کو مزید طول دیا جائے۔

اوباما انتظامیہ یہ اعلان کر چکی ہے کہ2011 کے وسط تک افغانستان میں سلامتی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے امریکی فوج کے انخلا کا آغاز کیا جا سکتا ہے جبکہ تنویر احمد خان کی رائے میں اب رپبلکن چاہے گی کہ صدر اپنے اس اعلان کو واپس لیں کیوں کہ وہ سمجھتی ہے کہ اس طرح کی ڈیڈ لائن دینے سے طالبان جنگجوؤں کے حوصلے بڑ ھیں گے۔

’’رپبلکن نہیں چاہیں گے کہ صدر اوباما کو آسانی سے کامیابیاں حاصل ہوں کیوں کہ اس طرح ان کی شہرت بڑھے گی اور دو سال کے بعد ان کے دوسری مدت کے انتخاب کے امکانات روشن ہوں گے جبکہ رپبلکن نہیں چاہیں گے کہ وہ دوبارہ منتخب ہوں‘‘۔

امریکی سفارت خانے کے نائب سیاسی کونسلر بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد طاقت کا توازن بدلنے سے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ خود رپبلکن پارٹی کے لیے بھی کوئی نیا قانون منظور کرانا مشکل ہو جائے گا کیوں کہ کسی بھی جماعت کے پاس دونوں ایوانوں میں اکثریت نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف ان اقدامات کو واپس نہیں لے سکے گا جو صدر اوباما اپنے آئنی اختیارات کے تحت گذشتہ دو سالوں کے دوران کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG