رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستا ن میں فوجی آپریشن ضروری ، امریکی سفارت کار

  • ن ہ

پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان میں گشت کررہی ہے (فائل فوٹو)

پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان میں گشت کررہی ہے (فائل فوٹو)

منگل کے روز پشاور میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی قونصل جنرل کیندیس پتنم نے ایک بار پھر پاکستان کی توجہ شمالی وزیرستان کی طرف دلاتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس علاقے میں پاکستانی فوج کی کارروائی دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ اُن کے بقول یہ بات سب جانتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک فغانستان میں امریکی فوجیوں پر ہلاکت خیز حملوں میں ملوث ہے۔ تاہم امریکی سفارت کار نے کہا کہ ملک میں کب اور کہاں فوجی آپریشن ہونا چاہیئے اس کا فیصلہ امریکہ نہیں بلکہ پاکستان اور اس کی فوجی قیاد ت کرے گی۔

افغان سرحد سے جڑے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مبینہ طور پر افغان طالبان جنگجوؤں کے حقانی نیٹ ورک نے اپنی محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ سرحد پار افغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج پر ہلاکت خیز حملے کرتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستانی حکومت اور فوج پر اس علاقے میں موجود افغان اور القاعدہ کے جنگجوؤ ں کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے بیرونی دباؤ میں اضافہ ہو ا ہے۔

امریکی سفارت کار پتنم نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف سوات، باجوڑ، مہمند ، جنوبی وزیرستان اور خیبرایجنسی سمیت دوسرے قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں امریکہ انھیں سراہتا اور ان کا احترام کرتا ہے اور وہ اس بات کا قائل ہو چکا ہے کہ پاکستانی فوج ملک کے ہر حصے میں حکومت کی عملداری کو یقینی بنانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔

رحمن ملک

رحمن ملک

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ جہاں کہیں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہوگی ”پاکستان کسی کے دباؤ میں آئے بغیر خود ایکشن لے گا ، چاہے وہ شمالی وزیرستان ہو ،جنوبی وزیرستان یا پاکستان کا کوئی حصہ ہو ، حکومت اُ س علاقے میں کارروائی کرے گی“۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوجی حکام بھی اس موقف کی بار بار وضاحت کر چکے ہیں کہ جب تک اُن علاقوں میں حالات پوری طرح بہتر نہیں ہو جاتے جہاں اس وقت فوجی کارروائیاں جاری ہیں اُس وقت تک کوئی بھی نیا فوجی آپریشن شروع نہیں کیا جائے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوج اور قبائلیوں کے درمیان فروری 2008 ء میں ایک امن معاہد ہ طے پایا تھا جو اب تک برقرا ر ہے اور جس کے تحت طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے جنگجوؤں نے اس علاقے میں موجود پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔ تاہم امریکی ڈرون طیاروں سے اس علاقے میں تواتر سے کیے جانے والے میزائل حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں القاعد ہ سے تعلق رکھنے والے کئی اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG