رسائی کے لنکس

پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں : ذرائع

  • نفیسہ ہودبھائے

فائل فوٹو

فائل فوٹو

یہ اطلاعات آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کی امریکی اہل کاروں سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد منظرِ عام پر آئی ہیں

پاکستانی اور امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے کہا ہے کہ پاکستان میں جنگجوؤں کے خلاف ڈرون میزائل حملوں کو فوراً بند کیا جائے اور ساتھ ہی ملک میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی اور خصوصی آپریشن کرنے والوں کی تعداد میں کمی کی جائے۔

واضح رہے کہ یہ اطلاعات آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کی امریکی اہل کاروں سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد منظرِ عام پر آئی ہیں۔

اِس معاملے پر آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے رابطہ کرنے پر فوج کا مؤقف بیان کرنے سے گریز کیا۔

فاٹا کےسابق سکیورٹی چیف بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے فوج کے حوالے سے اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں یہ نظر آرہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں، جس میں دو پاکستانی قتل ہوئے، امریکہ نے حکومت ِ پاکستان پر دباؤ ڈالا۔ اُن کے الفاظ میں: ’یہ ایک ’واٹر شیڈ ایونٹ‘ تھا۔ مجھے یہ نظر آرہا ہے کہ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں کے جو تعلقات تھے اُس کا دائرہ ٴ کار

نئے سرے سے طے کیا جائے۔ اِس میں جو چیزیں پاکستان کو بالکل ناقابلِ قبول ہیں وہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر ڈروں حملے اور دوسرے پاکستان میں سی آئی اے کی کارروائیاں ہیں جنھیں پاکستان بند کروانا چاہتا ہے۔

اسٹریٹجک تجزیہ کار کامران بخاری کے مطابق جس طرح سے ریمنڈ ڈیوس کیس کا سلسلہ چلا اور تصفیہ ہوا اُس سےپاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی، اُن کے بقول اچھی خاصی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اُن کے الفاظ میں: ’وہ کہتے ہیں جب لوہا گرم ہو اُس وقت ہتھوڑا مارنا چاہیئے۔ اِس وقت لوہا گرم ہے پاکستانی نقطہٴ نظر سے، اِس لیے پاکستان اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

کامران بخاری کا تعلق کینیڈا کے ’اسٹرٹفور انکارپوریٹڈ‘ سے ہے۔ اُن کے الفاظ میں ’پاکستان یہ مطالبہ پہلی مرتبہ ضرور کر رہا ہے لیکن اندرونِ خانہ پاکستان کی قیادت کو اِس کے بارے میں ہمیشہ سے اضطراب رہا ہے۔ اُن کے مطابق، جنرل (ر) مشرف نے

امریکی مسلح افواج کے اہل کاروں اور اُن کی انٹیلی جنس کے لوگوں کو ایک طرح سے اچھا خاصا کام کرنے کی گنجائش دی ہوئی تھی، تو اُسے ’رول بیک‘ کرنے کی یہ کوشش ہو سکتی ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG