رسائی کے لنکس

امریکی سینیٹ کے وفد کی پاکستانی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات


امریکی سینیٹ کے وفد کی پاکستانی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات

امریکی سینیٹ کے وفد کی پاکستانی سیکرٹری خارجہ سے ملاقات

امریکی سینٹ کے ایک وفد نے ہفتہ کو مِچ میک کونل کی سربراہی میں اسلام آباد میں سیکرٹری خارجہ سلمان بشیرسے ملاقات کی جس میں پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی اور امریکی وفد کے ارکان نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹیجک تعلقات کا عزم دہرایا۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وفد سے بات چیت میں سیکرٹری خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے کے تناظر میں پاکستان اور امریکہ کو باہمی دلچسپی اور تشویش کے معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت کو یقینی بنانے کے لیے قریبی اشتراک سے کام کرنا چاہیے۔

سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات میں گذشتہ دو سالوں کے دوران خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور دوطرفہ معاملات پر اب پہلے سے زیادہ وضاحت موجود ہے۔

سلمان بشیر نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں طویل جنگ سے بہت نقصان اٹھایا ہے اور اس تناظر میں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے اپنے دوست ملکوں خاص طور پر امریکہ کی طرف سے پائیدار بنیادوں پر امداددرکار ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ امریکہ کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کے لیے امریکہ کی اقتصادی امداد، اتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت رقم کی فراہمی اور ملک کے قبائلی علاقے میں ری کنسٹرکشن آپرچیونیٹی زونز کے قیام کے لیے قانون کی منظوری کا عمل تیز کرے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی اقتصادی مشکلات کے باوجود بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے انسداد کے سلسلے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جو سلمان بشیر کے مطابق ملکی افواج کے اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار اور ان خطرات کے خلاف قومی اتفاق رائے کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور مصالحتی عمل کو آگے بڑھانے ، بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے پرعزم ہے۔

سات رکنی امریکی وفد نے یقین دلایا کہ کانگریس پاکستان کو انسداد دہشت گردی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے تمام ممکن امداد دے گی۔

XS
SM
MD
LG