رسائی کے لنکس

شکیل آفریدی کا جرم امریکہ نہیں طالبان سے رابطے

  • شمیم شاہد

ڈاکٹر شکیل آفریدی (فائل فوٹو)

ڈاکٹر شکیل آفریدی (فائل فوٹو)

پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کو ہوا دینے والے تازہ ترین معاملے نے نیا اور دلچسپ رخ اختیار کر لیا ہے کیوں کہ قبائلی عدالت کے فیصلے کے مطابق شکیل آفریدی کو امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ سے رابطوں پر نہیں بلکہ مقامی طالبان کے سازشی منصوبوں میں شریک ہونے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے سی آئی اے کی مہم میں مدد فراہم کرنے والے اس پاکستانی ڈاکٹر کو سزا پر اعلیٰ ترین امریکی حکام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیوں کہ عام تاثر یہی تھا کہ شکیل آفریدی کو ملک سے ’’غداری‘‘ کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔

خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ محمد ناصر خان نے مقامی عمائدین سے مشاورت کے بعد گزشتہ ہفتے شکیل آفریدی کو قبائلی قوانین ’’ایف سی آر‘‘ کے تحت 33 سال قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

قبائلی انتظامیہ سے حاصل کی گئی عدالتی فیصلے کی نقل میں کہا گیا ہے کہ شکیل آفریدی خیبر ایجنسی میں سرگرم ایک طالبان کمانڈر منگل باغ کے ساتھ سازشوں کا مرتکب پایا گیا ہے۔

مگر عدالتی فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ گو کہ شکیل آفریدی سے متعلق تحقیقات کرنے والے پاکستانی تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں اُس کے غیر ملکی اداروں سے رابطوں کا ذکر کیا ہے لیکن یہ الزامات قبائلی عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، اور اسی لیے انھیں مقدمے میں حصہ نہیں بنایا گیا۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کے محکمہ صحت کی دستاویزات کے مطابق شکیل آفریدی کو نرسوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور شراب نوشی جیسے سنگین الزامات کا بھی سامنا رہا ہے۔

شکیل آفریدی کے اہل خانہ اور وکلاء نے اُس پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور اُن کے بقول اس ’’یکطرفہ‘‘ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل بھی کی جائے گی۔

پاکستانی ڈاکٹر کے بھائی جمیل آفریدی نے رواں ہفتے پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شکیل آفریدی کے پاس امریکی ویزہ موجود تھا اور اگر اُس نے کوئی غلط کام کیا ہوتا تو وہ ملک چھوڑ گیا ہوتا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG