رسائی کے لنکس

نیٹو رسد سے متعلق دستاویز پر دستخط کی تیاری

  • گ
  • اسلام آباد

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستان اور امریکہ باہمی مفاہمت کی یاداشت پر منگل کو دستخط کریں گے۔

پاکستان اور امریکہ نیٹو سپلائی لائنز سے متعلق باہمی مفاہمت کی یاداشت پر منگل کو دستخط کریں گے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ تقریب دوپہر ساڑھے بارہ بجے راولپنڈی میں وزارتِ دفاع میں منعقد کی جائے گی جس میں قائم مقام امریکی سفیر رچرڈ ہوگلنڈ اور ایڈیشنل سیکرٹری دفاع اس تاریخی مسودے پر دستخط کریں گے۔

افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو پاکستان کے راستے ایندھن اور ساز و سامان کی ترسیل نومبر 2011ء میں سلالہ کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد احتجاجاً معطل کر دی گئی تھی، اور یہ بندش رواں ماہ کے اوائل تک جاری رہی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کے خلاف 2001ء میں شروع کی گئی بین الاقوامی مہم میں پہلی مرتبہ امریکہ اور پاکستان رسد کی ترسیل کے سلسلے میں کوئی تحریری معاہدہ کر رہے ہیں۔

معاہدے پر دستخط پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کے پہلے دورہ واشنگٹن سے ایک روز قبل کیے جا رہے ہیں۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ پاکستانی سر زمین پر امریکی ڈرون حملے بند کرنے اور اس کی ٹیکنالوجی کی اسلام آباد کو منتقلی کا مطالبہ دہرائیں گے۔

دبئی میں پیر کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا جنرل ظہیر الاسلام امریکی سی آئی اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس سے بات چیت میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے بارے میں دونوں اداروں کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلہ پر بھی زور دیں گے۔

’’ہم اس بات پر زور دیں گے کہ ڈرون حملے فوری بند کیے جائیں۔ اگر ہم پارٹنر ہیں تو ہمیں بیٹھ کر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ لیکن اس علاقائی جنگ میں مشترکہ دشمن کے خلاف حکمت عملی مشترک نہیں ہے۔‘‘

امریکہ نے ڈرون حملے بند کرنے کا اب تک کوئی عندیہ نہیں دیا ہے تاہم ان کی تعداد میں حالیہ دنوں میں کمی آئی ہے۔

وزیر داخلہ نے توقع ظاہر کی کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے دورے کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ رحمٰن ملک نے اس تاثر کی نفی کی کہ پاکستان ڈرون ٹیکنالوجی ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

’’ہمیں (ڈرون) ٹیکنالوجی دیں اور ہم اسے استعمال کریں گے۔ امریکہ نے ہمیں ایف سولہ طیارے بھی دیے ہیں۔ کیا ہم ان کا غلط استعمال کر رہے ہیں؟‘‘
XS
SM
MD
LG