رسائی کے لنکس

پاکستان کو دی جانے والی 80کروڑ ڈالر کی امداد معطل: وائٹ ہاؤس


پاکستان کو دی جانے والی 80کروڑ ڈالر کی امداد معطل: وائٹ ہاؤس

پاکستان کو دی جانے والی 80کروڑ ڈالر کی امداد معطل: وائٹ ہاؤس

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو دی جانے والی 80کروڑ ڈالر کی امداد معطل کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف ولیم ڈَلے نے’ اے بی سی ٹیلی ویژن‘ کے پروگرام ’دِس ویک‘ میں بتایا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پیچیدہ ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب تک دونوں ملک اِس پیچیدہ صورتِ حال سے گرز نہیں جاتے، امریکہ یہ امداد روک کے رکھے گا۔

ادھر، امریکہ کے صف اول کے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن پاکستانی فوج کو فراہم کی جانے والی کروڑوں ڈالر کی امداد ”معطل اور بعض صورتوں میں منسوخ“ کر رہا ہے۔

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے تین سینیئر امریکی عہدے داروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کو امریکی فوجی تربیت کاروں کو ملک سے نکالنے کے فیصلے پر پچھتاوے کا احساس دلانے اور پاکستانی فوج کو شدت پسندوں کے خلاف ”زیادہ موثر“ انداز میں کارروائی کرنے کے حوالے سے دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اخبار نے عہدے داروں کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی دو ارب ڈالر سے زائد کی سالانہ فوجی امداد میں سے تقریباً 80 کروڑڈالر مالیت کے منصوبوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ امداد میں کٹوتی کا ”واضح مقصد“ پاکستانی فوج کو یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرنا ہے کہ وہ اس کی کارروائیوں کے لیے مالی مدد فراہم کرنے والے ملک کا ساتھ دے گی یا پھر افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف سرگرم طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کی ”خفیہ معاونت“ جاری رکھے گی۔

نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کی بحالی اور پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی یقین دہانی کی صورت میں فوجی امداد اور سازوسامان کی فراہمی بحال ہو سکتی ہے۔

مئی کے اوائل میں القاعدہ کے مفرور رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف پاکستان میں خفیہ امریکی آپریشن کے بعد سے دونوں ملکوں کے روابط تناؤ کا شکار ہیں۔

XS
SM
MD
LG