رسائی کے لنکس

امریکی امداد میں کٹوتی کی منظوری ہدف تنقید

  • یاسر منصوری
  • اسلام آباد

پاکستانی پارلیمان

پاکستانی پارلیمان

پاکستانی سیاسی و فوجی قیادت کی طرف سے نرم رویہ اختیار کرنے کے باوجود امریکی ایوانِ نمائندگان کا اقدام منفی پیغام ہے۔

امریکی کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں پاکستان کے لیے فوجی امداد میں 65 کروڑ ڈالر کی کٹوتی کی منظوری پر پاکستان میں اراکین پارلیمان کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی لائنز کی بحالی کے حالیہ اعلان کے بعد اُمید کی جا رہی تھی کہ کشیدگی کا شکار پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کا عمل تیز ہو جائے گا۔

لیکن دانشور حلقوں کا ماننا ہے کہ امریکی قانون سازوں کے تازہ اقدام سے جہاں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا وہیں پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت پر سیاسی و عوامی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔

سینیٹ کی کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے چیئرمین اور حکمران جماعت کی اتحادی ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کے رہنما حاجی محمد عدیل نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت کی طرف سے حالیہ مہینوں میں ایک نرم رویہ اختیار کرنے کے باوجود امریکی ایوانِ نمائندگان کا اقدام اچھا شگون نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کا نیٹو سپلائی لائنز بحال کرنے کا فیصلہ ’’بڑا جرات مندانہ‘‘ تھا کیوں کہ مذہبی جماعتوں کے علاوہ لبرل اپوزیشن سیاسی جماعتیں بھی اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

’’ان حالات میں اگر ہم اتنا کچھ کر رہے ہیں اور امریکہ میں اس کی قدر کے بجائے وہاں کے قانون ساز ہمارے خلاف باتیں کرتے ہیں (تو) یہ بڑی زیادتی ہے ... اگر یہ رویہ رہے گا تو پاکستان میں امریکہ کے جو ہمدرد ہیں، جو اس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں وہ امریکہ یا نیٹو کے حق میں بات نہیں کر سکیں گے۔‘‘

سینیٹر حاجی عدیل نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی پیش رفت کو ایک سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخاب کی مہم بظاہر دوطرفہ تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔

اے این پی کے رہنما نے متنبہ کیا کہ اراکینِ کانگریس کی جانب سے پاکستان مخالف بیانات سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اس کٹوتی سے بھی موجودہ ماحول میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔


حزب اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر راجہ ظفر الحق نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ فوجی امداد میں کٹوتی اور پاکستان مخالف بیانات دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو متاثر کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں مخلتف لابیز متحرک ہیں اور ان میں سے کچھ پاکستان کے بارے میں بھی ’’ہمدردانہ رویہ نہیں رکھتیں‘‘۔

’’اس سے جس ملک کے ساتھ وہ (امریکی انتظامیہ) تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں وہاں کی حکومت اور عوام پر بھی برا اثر پڑتا ہے اور مشترکہ مقاصد کے حصول میں بھی ناکامی ہوتی ہے، ماحول مزید کشیدہ ہو جاتا ہے ... اس کٹوتی سے بھی موجودہ ماحول میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔‘‘

امریکی ایوانِ نمائندگان نے پاکستان کے لیے فوجی امداد میں تقریباً 50 فیصد کٹوتی کی منظوری ایسے وقت دی ہے جب دونوں ممالک کے حکام نے مستقبل قریب میں نیٹو سپلائی لائنز پر تحریری معاہدے پر دستخط کیے جانے کا عندیہ دیا ہے، جب کہ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون پر بات چیت کے لیے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر السلام کے آئندہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے کی بھی اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG