رسائی کے لنکس

امریکی صدارتی مباحثے پر پاکستان میں ردعمل


سینیٹر مشاہد حسین سید (فائل فوٹو)

سینیٹر مشاہد حسین سید (فائل فوٹو)

امریکی صدارتی انتخاب میں خواہ کوئی بھی اُمیدوار جیتے پاکستان پر اس تبدیلی کے اثرات نہیں ہوں گے کیونکہ پاکستان دنیا کے اس خطے میں ایک کلیدی قوت کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستانی سیاسی حلقوں نے امریکی صدارتی اُمیدواروں کے درمیان پیر کو خارجہ پالیسی پر ہونے والی بحث میں پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کی حمایت میں اعلانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے انھیں ’’حقیقت پسندی‘‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

لیکن خطے بالخصوص افغانستان میں قیام امن کے حصول کے لیے کسی ’’روڈ میپ‘‘ اور اس میں پاکستان کے کردار کا تذکرہ نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا ہے کیونکہ اُن کے بقول اسلام آباد کے بغیر افغانستان میں امریکہ کی حکمت عملی آگے نہیں بڑھ سکتی جس کا صدارتی بحث میں صدر براک اوباما اور مٹ رومنی دونوں نے اعتراف کیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین مشاہد حسین نے کہا کہ امریکہ کے صدارتی مباحثے میں بلاشبہ پاکستان کی اہمیت اُجاگر ہوئی ہے، مگر بہتر تعلقات کے فروغ کے لیے خواہ ڈرون حملوں کا معاملہ ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ یا پھر جوہری ہتھیاروں کا ایشو، دونوں کو اپنی پالیسیاں واضح اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مٹ رومنی اور صدر اوباما دونوں نے پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے جاری رکھنے کے یکساں موقف کا اظہار کیا کیونکہ اس وقت امریکہ کے پاس اس کی متبادل پالیسی کا فقدان ہے۔

’’ہمیں بھی چاہیے کوئی متبادل راستہ ہم بھی بتائیں کہ کس طریقے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔ تو اس حوالے سے پاکستان کو بھی کچھ حکمت عملی تیار کرنی پڑے گی کیونکہ ماضی میں یہ ڈرون حملے پاکستان کی تائید سے ہی ہوتے تھے اورہم نے (امریکہ کو) ایک بری عادت ڈال دی اوراُسے ان کارروائیوں کی اجازت دے دی۔‘‘

لیکن سینیٹر مشاہد حسین نے دعوٰی کیا کہ اب پاکستان کی یہ پالیسی تبدیل ہوچکی ہے مگراس ضمن میں دہشت گردی کے خلاف ایک ٹھوس اور واضح حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔
’’ہم بتائیں ان (امریکہ) کو کہ ہم خود اقدامات بھی کریں گے پاکستان کے اندر انتہاپسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے اور امریکہ کو بھی باور کرائیں کہ یہ پالیسی جو ڈرون کی ہے وہ ناکام ہے اور وہ پاکستان و امریکہ کے تعلقات کے لیے منفی ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ میں سیاسی قیادت میں تبدیلی کا اُن کی خارجہ پالیسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں حکمران اور پالیسی سازی ایسی حکمت عملی ترتیب دیں جو بیرونی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کی محتاج نہ ہو۔

’’اوباما نے اور رومنی نے آج باور بھی کروا دیا واضح طور پر کہ پاکستان کے بغیر امریکہ (افغانستان میں) آگے نہیں بڑھ سکتا اس خطے میں تو چاہے رومنی آجائے یا اوباما رہ جائے پاکستان کو کوئی بنیادی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘


صدر اوباما اور ریپبلکن امیدوار رومنی کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ

صدر اوباما اور ریپبلکن امیدوار رومنی کے درمیان تیسرا اور آخری مباحثہ

اُنھوں نے کہا کہ امریکی صدارتی مباحثے میں پاکستان کا مثبت تذکرہ اور گزشتہ ہفتے خطے کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر مارک گراسمین کے بیانات واشنگٹن کی اسلام آباد کے بارے میں پالیسی میں تعمیری تبدیلی کے واضح اشارے ہیں۔

’’پاکستان پر جو دباؤ پہلے ڈالتے تھے کہ یہ کریں یہ نہ کریں ’ڈو مور‘ والا جو سلسلہ تھا وہ منترہ ختم ہوگیا ہے۔ خاص طور پر شمالی وزیرستان میں فلاں کردیں فلاں کے خلاف فلاں کارروائی کریں ان کو معلوم ہوگیا ہے کہ پاکستان وہی کرے گا جو پاکستان کے مفاد میں اور جو پاکستان کے عوام چاہیں گے، تو اس سے میرے خیال میں تعلقات میں تلخی کم ہوگی اور گفتگو اور ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔‘‘

صدارتی مباحثے میں ریپبلکن امیدوار رومنی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ قطع تعلق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ’’وہاں حقانی نیٹ ورک ہے، طالبان ہیں اور 100 جوہری ہتھیار‘‘ سے مسلح اس ملک کا ساتھ نہیں چھوڑا جاسکتا۔

اُن کا اشارہ بظاہر اُن خدشات کی طرف تھا کہ پاکستان میں عدم استحکام کی صورت میں ملک میں موجود انتہاپسند عناصر جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

لیکن مسلم لیگ (ن) کے رُکن قومی اسمبلی خرم دستگیر خان نے پاکستان کے جوہری اثاثوں اور دہشت گردوں کے درمیان تعلق قائم کرنے کے مٹ رومنی کے بیان کو اُن کی ’’سادگی‘‘قرار دیا۔

’’ہمیں جن چیلنجوں کا سامنا ہے اُن سے پاکستان میں تمام حلقے بخوبی آگاہ ہیں اور ان سے نمٹنے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ ہمارے جوہری اثاثے بالکل اُسی طرح محفوظ ہیں جیسے کسی اور ایٹمی قوت کے ہاں، لہذا اس بارے میں امریکی رہنماؤں کے خدشات غلط فہمی پر مبنی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

خرم دستگیر کہتے ہیں کہ پاکستان اورامریکہ دونوں کے لیے ضروری ہے کہ مستقبل میں کشیدگی سے بچنے کے لیے دو طرفہ تعلقات کو شفاف انداز میں اورعوام کو اعتماد میں لے کرفروغ دیں۔

’’پچھلے دس سالوں میں تعلقات کو زبانی کلامی اور محض چند مخصوص مفادات کو سامنے رکھ کر پروان چڑھایا گیا جو آج امریکہ اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ ہمیں چاہیئے کے مستقبل میں دونوں ملکوں کے عوام اور سول اداروں کے درمیان رسمی معاہدوں کو یقینی بنایا جائے جس سے حالات میں یقیناً بہتری آئے گی۔‘‘
XS
SM
MD
LG