رسائی کے لنکس

’امریکی ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع نہیں ہونے دیں گے‘

  • حسن سید

’امریکی ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع نہیں ہونے دیں گے‘

’امریکی ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع نہیں ہونے دیں گے‘

امریکہ کے ایک بڑے اخبار نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ پاکستان کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف اپنے ڈرون حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسے کوئٹہ شہر کے گرد و نواح تک تک بڑھانا چاہتا ہے جب کہ پاکستان نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق امریکی حکام سمجھتے ہیں کے صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ نہ صرف طالبان کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے بلکہ یہ افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کو پیسے، افرادی قوت اور دھماکا خیز مودا بھجوانے کا ذریعہ بھی ہے۔

اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان نے اگرچہ ڈرون حملوں کا دائر بڑھانے کے بارے میں امریکی درخواست مسترد کر دی ہے لیکن کوئٹہ میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی مبینہ موجودگی کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ اخبار کے مطابق پاکستانی خفیہ ادارے کے ساتھ مل کر طالبان شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے پاکستانی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ امریکہ کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے کہ کوئٹہ میں کوئی ایسا منظم گروپ موجود ہے جو افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں کو کنٹرول کر رہا ہے۔

عبدالباسط (فائل فوٹو)

عبدالباسط (فائل فوٹو)

دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں امریکی اخبار کی رپورٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی غیر ملکی ایجنسی کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ اس کی سرزمین پر کارروائی کرے اور یہ کہ اس طرح کے آپریشن کا اختیار صرف پاکستان کے اپنے اداروں کو حاصل ہے۔ ’’ امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ڈرون حملے ہماری ریڈ لائنز میں سے ہیں اور ہم کسی طور بھی ان میں توسیع نہیں ہونے دیں گے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب تک ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کی مخالفت کرتا رہا ہے اور امریکی حکومت پر بار ہا یہ زور دیتا آیا ہے کہ وہ یہ سلسلہ بند کرے کیونکہ یہ کارروائیاں عبدالباسط کے مطابق انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر رہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف موثرآپریشن کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ اپنے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھائیں اور خفیہ اطلاعات کے بر وقت تبادلے کو یقینی بنایئں۔

XS
SM
MD
LG