رسائی کے لنکس

مرکزی قصبے میران شاہ کے قریب واقع درگامنڈی کے علاقے میں جاسوس طیارے سے ایک مکان پر دو میزائل داغے جس سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اتوار کو مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم چار مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

مقامی سکیورٹی ذرائع کے مطابق مرکزی قصبے میران شاہ کے قریب واقع درگامنڈی کے علاقے میں جاسوس طیارے سے ایک مکان پر دو میزائل داغے گئے جس سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

مرنے والوں کی شناخت کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ لیکن باور کیا جاتا ہے کہ ان قبائلی علاقوں میں مقامی و غیر ملکی عسکریت پسند روپوش ہیں۔

اس ڈرون حملے سے دو روز قبل ہی پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ یہ حملے ان کے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے مخالف ردعمل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ ڈرون حملوں کو انسداد دہشت گردی کی جنگ میں ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے۔

رواں ماہ اس سے قبل افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں تین ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں ایک درجن سے زائد مشتبہ شدت پسند مارے گئے۔ ان حملوں سے ہلاک ہونے والوں میں طالبان کا ایک اہم کمانڈر سنگین زردارن بھی شامل ہے۔

گزشتہ اتوار کو شوال کے علاقے میں ہونے والے ڈرون حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
XS
SM
MD
LG