رسائی کے لنکس

انسداد دہشت گردی پر پاکستان سے تعاون جاری رہے گا: امریکہ


امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سلامتی اور انسداد دہشت گردی میں تعاون سمیت مختلف مشترکہ مفادات کے لیے بات چیت کا عمل جاری ہے اور امریکہ دونوں ملکوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے مل کر کام کرتا ہے۔

امریکہ نے پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ میں ترجمان جینیفر ساکی نے کہا کہ امریکہ پرامن انتقال اقتدار کے اس تاریخی موقع پر پاکستانی عوام کی خوشیوں میں شریک ہے۔

نواز شریف نے بدھ کو ملک کا تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں پاکستانی سر زمین پر ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان ساکی نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ سلامتی اور انسداد دہشت گردی میں تعاون سمیت مختلف مشترکہ مفادات کے لیے بات چیت کا عمل جاری ہے اور امریکہ دونوں ملکوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے مل کر کام کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جیسے جیسے ہم انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، تو نہایت ضروری ہے کہ ہم دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں۔ جو معاونت انھیں درکار ہے وہ انھیں (دی جائے)، ان کی اپنے ملکوں میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعدداد کار بڑھانے میں فراہم کر کے (تعاون بڑھایا جائے)۔‘‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہی سلسلہ پاکستان کے ساتھ بھی جاری رہے گا۔

امریکہ کا ماننا ہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور اس سے منسلک طالبان شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ سرحد پار افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج پر ہلاکت خیز حملے کرتے ہیں۔

پاکستان ان علاقوں پر مشتبہ امریکی ڈروں حملوں کو اپنی سلامتی و خودمختاری کی خلاف ورزی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے مضر قرار دیتا ہے۔
XS
SM
MD
LG