رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے ’’پیو‘‘ نے دنیا کے 44 ملکوں میں کیے جانے والے سروے پر مشتمل اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ، کینیا اور اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کی اکثریتی آبادی نے ڈرون حملوں کی مخالفت کی۔

عسکریت پسندوں پر امریکی ڈرون حملوں کے خلاف دنیا بھر میں رائے عامہ میں اضافہ ہورہا ہے اور خود واشنگٹن کے مغربی اتحادی ملکوں میں بھی اس پالیسی کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔

واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے ’’پیو‘‘ نے دنیا کے 44 ملکوں میں کیے جانے والے سروے پر مشتمل اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ، کینیا اور اسرائیل کے علاوہ تمام ممالک کی اکثریتی آبادی نے ڈرون حملوں کی مخالفت کی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً 66 فیصد آبادی اپنے ملک کے قبائلی علاقوں میں بغیر ہوا باز کے جاسوس طیاروں کے مہلک حملوں کے حق میں نہیں اور صرف تین فیصد اسے امریکہ کی درست حکمت عملی قرار دیتی ہے۔ سروے میں حصہ لینے والے 31 فیصد لوگوں نے اس بارے میں رائے نہیں دی۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ ایک دہائی سے ہونے والے مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں پاکستانی طالبان شدت پسندوں کے سربراہان بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے علاوہ کئی اہم کمانڈر مارے جا چکے ہیں مگر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ حملے ملک کی خود مختاری کے خلاف اور اس کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔

عسکریت پسندوں اور افغانستان سے متصل قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں پر تحقیقات کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کانفلکٹ مانیٹرنگ سنٹر کے ڈائریکٹر عبداللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ اب تک پاکستان میں 380 سے زائد ڈرون حملے ہوئے جس میں لگ بھگ 3500 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

’’طالبان سے زیادہ القاعدہ کی لیڈرشپ کو نشانہ بنایاگیا اور بڑے بڑے کمانڈر اس میں مارے گئے لیکن سگنیچر حملوں میں نامعلوم مشتبہ عسکریت پسندوں کی ہلاکتیں ان سے بہت زیادہ رہیں۔ امریکہ نے انہیں نشانہ بنایا جو کہ اس کے مفادات کو نقصان پہنچانا چاہ رہے تھے۔ افغانستان میں اجازت کے باوجود فضل اللہ، عمر خالد خراسانی اور دوسرے کمانڈروں پر ڈورن حملے نہیں کیے گئے۔‘‘

بعض ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ امریکہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے پاکستان کی رضا مندی سے کرتا آیا ہے اور سیاسی مصلحتوں کے باعث اس معاہدے کو خفیہ رکھا گیا۔

لیکن ہفتہ وار بریفنگ میں اس بارے میں سوال پر وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا تھا

’’میں تو اس پر تبصرہ تک نہیں کرنا چاہتی۔ ہم اس پر بحث کر چکے ہیں اور دلائل بھی۔ اگر آپ اب بھی اسی تاثر پر قائم یا اسے خاطر میں رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔‘‘

اس سے پہلے پیو ریسرچ سنٹر نے اپنی ایک اور رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستانیوں کی اکثریت مذہبی انتہا پسندی کو ملک کے لیے سنگین خطرہ سمجھتی ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے سربراہ روحیل اصغرکا کہنا ہے کہ ملک کی خود مختاری کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق سیاسی تقسیم بھی ڈرون حملے کی مخالفت کی وجہ ہے۔

’’جب کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے تو خبر میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہوا اور یہ مارا گیا۔ اس کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ اس میں بہت اہم ہے۔ امریکی شروع سے ایسا کوئی طریقہ اپنا لیتے کہ معلومات اور اس کے ذرائع بتائے جاتے اور پھر پاکستان حکومت جس بات پر مذمت کرتی تھی اس کی وجہ دو رائے تھیں ایک طالبان کی مذمت کرتے تھے تو ایک اس سے جنگ کرنا چاہتے تھے۔‘‘

اسلام آباد نے امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا اور وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ سال کے اواخر میں امریکی صدر براک اوباما سے اپنی پہلی ملاقات میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا جس کے بعد گزشتہ ماہ تک ان حملوں میں تعطل دیکھنے میں آیا۔

XS
SM
MD
LG