رسائی کے لنکس

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی ایجنسی کے گاؤں موسیکی میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے سے داغے گئے دو میزائلوں کا ہدف ایک گھر تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہفتہ کو ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم تین مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

مقامی حکام اور قبائلیوں کے مطابق افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی ایجنسی کے گاؤں موسیکی میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے سے داغے گئے دو میزائلوں کا ہدف ایک گھر تھا۔

مرنے والے مبینہ شدت پسندوں کی شناخت کے بارے میں فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا ہے۔

پاکستان کا یہ علاقہ القاعدہ اور طالبان سے منسلک شدت پسندوں کی آماجگاہ تصور کیا جاتا ہے اور امریکہ کا ماننا ہے کہ یہاں سے یہ عسکریت پسند سرحد پار افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے خلاف ہلاکت خیز حملے کرتے ہیں۔

پاکستان ڈرون حملوں کو اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتا آیا ہے اور نو منتخب حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ وہ اس معاملے کو امریکہ سے بات چیت کے ذریعے حل کرے گی۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر براک اوباما سے پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کی متوقع ملاقات میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جائے گا۔

رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی ڈرون حملوں کو ماورائے قانون قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں ایسی کسی بھی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کے تابع ہونا چاہیے اور ان میں غلطیوں اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

امریکہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے میزائل حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ حملے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے سود مند نہیں۔
XS
SM
MD
LG