رسائی کے لنکس

ڈرون حملے ملکی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں: حنا ربانی کھر


پاکستانی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر

پاکستانی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر

پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن سے بھی ڈرون حملوں سے متعلق معاملے کو اٹھائیں گی۔

پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ان کا ملک قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کو اپنی ملکی سالمیت کی خلاف ورزی سمجھتا ہے اور حکومت اس بارے میں امریکہ سے کئی بار اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

سینٹ کے اجلاس کے دوران منگل کو وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

ڈرون حملوں کے بارے میں واشنگٹن کی نئی حکمت عملی سے متعلق حنا ربانی کھر نے کہا کہ ابھی تک اس بارے میں امریکہ کی طرف سے کوئی واضح بات سامنے نہیں، تاہم انھیں صرف میڈیا کے ذریعے ہی اس بارے میں معلوم ہوا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پاکستان میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن سے بھی اس معاملے کو اٹھائیں گی۔

ایک موقر امریکی روزنامہ ’’دی واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے خبر دی تھی سی آئی اے کے نامزد سربراہ جان برینن ڈرون حملوں سے متعلق سی آئی اے کے نئے قواعد و ضوابط کا پاکستان پر اطلاق نہ کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پلے بک کے نام سے ترتیب دی جانے والی قواعد وضوابط کی اس خفیہ کتاب میں شدت پسندوں کو ہدف بنانے کے حوالے سے سخت قواعد متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق سی آئی کی طرف سے یہ تجاویز حتمی مراحل میں ہیں۔

اس رضامندی سے امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون طیاروں سے میزائل حملے کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

اس نئی کتاب کے مطابق سی آئی اے پاکستان میں ڈرون حملوں سے قبل امریکی سفیر کو آگاہ کرے لیکن ایجنسی کو ہدف کی فہرست میں ناموں اور حملے کرنے کے فیصلے پر تقریباً مکمل اختیار حاصل ہو گا۔

2001ء میں امریکہ کی زیر قیادت شروع ہونے والی انسداد دہشت گردی کی جنگ کے بعد پاکستان کے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں پر بغیر ہوا باز کے جاسوسی طیاروں سے مشتبہ شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ 2004ء میں شروع ہوا۔

پاکستان ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لیے مضر اور اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا آیا ہے۔ لیکن امریکی حکام اسے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان سے منسلک شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے۔
پاکستان میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن نے منگل کو وزارت خارجہ میں حنا ربانی کھر سے ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی اور پاک امریکہ تعلقات کی مثبت سمت میں پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا گیا۔

دریں اثناء دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک حالیہ دوطرفہ تعلقات میں مشترکہ مفاد اور باہمی احترام کی بنیاد پر پیش رفت کے لیے پرعزم ہیں۔

ملاقات میں خطے کی صورتحال بالخصوص افغانستان میں امن اور مصالحتی عمل کے لیے بین الاقوامی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے افغانوں کی زیرقیادت مصالحتی عمل کے فروغ میں پاکستان کی کاوشوں کو اجاگر کیا۔ امریکی سفیر نے خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو مثبت کردار دیتے ہوئے سراہا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG