رسائی کے لنکس

دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر، امریکہ کا 20کروڑ ڈالردینے کا وعدہ


وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ (فائل)

وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ (فائل)

پاکستانی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک یا ادارہ اتنا پڑا منصوبہ تنہا مکمل نہیں کرسکتا۔ لہذا، اِس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کو دیگر ملکوں اور بین الاقوامی اداروں کی مدد کی ضرورت ہے

وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ پاکستان میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے امریکہ نے 20 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ اُن کے بقول، اِس وسیع منصوبے پر 10 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے جِس کی تکمیل میں دس برس لگیں گے۔

اِن اعداد وشمار کو مد ِنظر رکھتے ہوئے پاکستانی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک یا ادارہ تہنا اِسے مکمل نہیں کرسکتا۔ لہذا، اِس سلسلے میں حکومتِ پاکستان کو دیگر ملکوں اور بین الاقوامی اداروں کی مدد کی ضرورت ہے۔


اُنھوں نے یہ بات بدھ کی شام ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ حفیظ شیخ نے بتایا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان میں جاری مشترکہ منصوبوں کی رفتار کو تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے ،جِن میں تربیلا ، گدو، مظفر گڑھ اور جامشورو میں بجلی کے پیداوری منصوبوں کی استعدادِ کار بڑھانا بھی شامل ہیں۔ اُن کے بقول، اِن اقدامات سے تقریباً 900 میگاواٹ اضافی بجلی حاصل ہو سکے گی۔

پاکستانی وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں امریکی امداد سےچلنے والے تعلیم، مواصلات اور توانائی سمیت دیگر منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے سربراہ آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں 1.18 ارب ڈالر کی رقم امریکہ نے جاری کردی ہے، جب کہ مزید پانچ سے چھ سو ملین ڈالر آئندہ ہفتوں میں جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستانی وفد کی امریکی حکام کے ساتھ ہونے والی اب تک کی ملاقاتیں ’کافی مفید رہی ہیں‘ جن کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔اُن کے بقول، اِن ملاقاتوں میں پاکستان امریکہ معاشی تعلقات کے تمام پہلوؤں پر کھل کر بات ہوئی اور اس کے امید افزا نتائج نکلنے کی توقع ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ اسٹریٹجک ڈائلاگ کے دوبارہ آغاز کے بعد تعلقات بہتر نہج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ وفد نے محکمہٴ خارجہ اور محکمہٴ خزانہ کے حکام، یو ایس ایڈ کے منتظم، اورسیز انویسٹ منٹ کے عہدے داروں، یو ایس ٹریڈ کے نمائندے، اور پاکستان و افغانستان کے نمائندہ خصوصی اور امریکی قومی سلامتی کونسل کے ڈائریکٹر سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

اس کے علاوہ، متعدد گروپ میٹنگز ہو چکی ہیں اور کثیر ملکی اداروں مثلاً عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور آئی ایف سی کے علاوہ امریکہ میں پاکستان سے متعلق سینئر انتظامیہ کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ پھر یہ کہ بزنس کمیونٹی اور پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ بات ہوئی ہے، جب کہ یو ایس چیمبر آف کامرس نے وفد کو مدعو کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت پاکستان اقتدار میں آئی تھی اُس وقت قومی شرح نمو 1.7کی سطح پر تھی جو بڑھ کر گذشتہ سال 3.7فی صد کی سطح پر پہنچ چکی ہے، جو آئندہ سال مزید بڑھے گی۔

تفصیلی رپورٹ کے لیے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG