رسائی کے لنکس

پاک امریکہ کشیدگی کے باوجود طالبعلموں کے تبادلے کا منصوبہ جاری


پاک امریکہ کشیدگی کے باوجود طالبعلموں کے تبادلے کا منصوبہ جاری

پاک امریکہ کشیدگی کے باوجود طالبعلموں کے تبادلے کا منصوبہ جاری

حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باوجود پاکستانی طالب علموں کے لیے امریکی معاونت کا منصوبہ معمول کے مطابق جاری ہے اور ایک سو پاکستانی طلبا و طالبات تعلیم کے حصول کے لیے جنوری کے پہلے ہفتے میں امریکہ روانہ ہوں گے۔

پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے ان طلبا و طالبات کی امریکہ روانگی سے قبل انھیں میزبان ملک کی ثقافت اور دیگر معلومات کی فراہمی کے لیے رواں ہفتے اسلام آباد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تاکہ انھیں امریکہ میں قیام کے دوران کسی دشواری کا سامنا نا کرنا پڑے۔

طالب علموں کے تبادلے کے اس منصوبے کے تحت ایک سو پاکستانی پہلے ہی مختصر دورانیے کے لیے امریکہ جا چکے ہیں۔ اس امریکی منصوبے کا مقصد طلبا میں مل جل کر کام کرنے اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔

تقریب میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بھی شرکت کی اور پاکستانی طالب علموں سے خطاب میں کہا کہ مضبوط پاکستان امریکہ اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

سفیرکیمرون نے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں حالیہ دشواریوں کے باوجود امریکہ طالب علموں کے تبادلے کا یہ منصوبہ جاری رکھے گا۔

امریکی امداد سے پاکستانی طالب علموں کو ایک غیر سرکاری تنظیم ’یونائٹیڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان‘ کے ذریعے تعلیم کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریٹا اختر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ طالب علموں کے تبادلے کا یہ منصوبہ نئی نسل کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ریٹا اختر

ریٹا اختر

’’طلبا جب آپس میں ملتے ہیں تو دوستی ہو جاتی ہے۔ میں طالب علموں کے تبادلے کے ایک منصوبے کے تحت بہت پہلے پاکستان آئی تھی اور میری دوستی اس حد تک بڑھ گئی کہ میں اردو میں بول لیتی ہوں۔ ہمیں اس طرح کوئی شک نہیں کہ وہاں کے لوگوں کا رویہ بہت دوستانہ ہو گا۔ جہاں یہ طالب جا رہے ہیں وہاں پاکستانی بہت کم ہیں تو یہ ان کو بتا سکیں گے کہ پاکستان کیا ہے تو یہ اپنے ملک کی ثقافت کے اچھے نمائندے ہوں گے۔‘‘

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے لیے امریکہ کا فل برائیٹ اسکالر شپ پروگرام اس وقت دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس کے تحت پاکستانی طالب علموں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کو امریکی اداروں میں حصول تعلیم کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

26 نومبر کو قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دو سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاک امریکہ تعلقات نا صرف کشیدہ ہو گئے بلکہ پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے اس واقعے کے بعد تعلقات جمود کا شکار ہیں۔

پاکستان نے مہمند ایجنسی میں چوکیوں پر نیٹو حملے کے بعد امریکہ سے روابط پر نظر ثانی کا کام شروع کر رکھا ہے۔ ایک روز قبل امریکی سفیر کیمرون منٹر نے وزیراعظم گیلانی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ دہشت گردی ایک ایسا مشترکہ دشمن ہے جس کے خلاف پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے لیکن طے شدہ حدود یا ریڈ لائنز کے احترام کو یقینی بنائے۔

امریکی سفیر کہہ چکے ہیں کہ مہمند ایجنسی کے المناک واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور نتائج کی بنیاد پر ایسا لائحہ عمل وضع کیا جائے گا کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ کبھی پیش نا آئے۔

XS
SM
MD
LG