رسائی کے لنکس

اعلیٰ تعلیم کی مایوس کن صورتحال اور امریکی امداد

  • حسن سید

اعلیٰ تعلیم کی مایوس کن صورتحال اور امریکی امداد

اعلیٰ تعلیم کی مایوس کن صورتحال اور امریکی امداد

امریکہ نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی ترقی کے لیے بھرپور مدد اور تعاون کا یقین دلایا ہے جو ناقدین کے مطابق حکومتوں کی عدم توجہی اور فنڈز کی کمی کے باعث نہایت مایوس کن حالات میں گھرا ہوا ہے۔

اعانت کے عزم کا اظہار امریکی سفیراین پیٹرسن نے اس ہفتے پاکستان میں 1950ء میں شروع کیے گئے فل برائیٹ سکالر شپ پروگرام کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فل برائیٹ اور ہمفری امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ طویل المعیاد تعلقات قائم کرنے کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کا حصہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جتنے زیادہ پاکستانی امریکی اداروں میں آئیں گے انتا ہی امریکیوں کو پاکستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا جو ان کے بقول وہ خطہ ہے جو امریکہ کے لیے آئندہ مستقبل کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔

فل برائیٹ پروگرام پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پروگرام ہے جس میں شرکت کرنے والی ممتاز شخصیات میں پاکستانی یونیورسٹیوں کے نو موجودہ وائس چانسلر بھی شامل ہیں۔

امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری ہونے بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان جاری اسٹریٹیجک مذاکرات اور بڑھتے ہوئے تعلقات کے تحت تعلیم کے شعبے میں اہم تبادلوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا جارہا ہے اور متعدد نئے پروگرام بھی وضع کیے جارہے ہیں۔ اس موسم خزاں میں 94پاکستانی طلبہ و طالبات ماسٹرز پروگرام جب کہ 60طالب علم امریکہ میں حصول تعلیم کا آغاز کریں گے۔

دیگر نئے تبادلہ پروگراموں کے تحت آئندہ تعلیمی سال ایک سو پاکستانی طالب علم امریکہ میں کالج اور یونیورسٹی سطح کی تعلیم اور 60پاکستانی طلبہ و طالبات کمیونٹی کالجز میں اعلیٰ مہارتوں پر عبور حاصل کرنے جائیں گے۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئر مین جاوید لغاری نے کاکہا کہ امریکہ نہ صرف پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے مدد فراہم کررہا ہے بلکہ جنگ سے متاثرہ مالاکنڈ ڈویژن میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی میں پیش پیش ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں پاکستان کو 4کروڑ 50لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کی جاچکی ہے جو تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی تعمیر نو اور طلبا کی سکالرشپ پر خرچ ہورہی ہے۔

جاوید لغاری نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی اہل کل آبادی میں اس وقت پانچ فیصد سے بھی کم کو اس کے مواقع حاصل ہیں۔

اعدادو شمار بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں 17سے 23سال تک کی عمر کی تقریباً اڑھائی کروڑ آبادی ہے جس میں سے صرف 15لاکھ اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان کے مطابق یہ شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔

کمیشن کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں طالب علموں کی آبادی میں ہرسال 15سال فیصد کا اضافہ ہورہا ہے جن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس تناسب سے وسائل بھی دستیاب ہونے چاہئیں لیکن ان کے مطابق ماضی کی روایت کو برقرار رکھے ہوئے موجودہ حکومت نے بھی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے بجٹ میں 20فیصد یعنی چار ارب روپے کی کٹوتی کی ہے۔

جاوید لغاری کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے اس کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ پاکستان اس شعبے میں بھارت سمیت خطے کے دوسرے ملکوں کے برابر آسکے جہاں صورتحال نسبتاً بہت بہتر ہے۔

امریکی سفارتخانے کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک سینئر عہدیدارLarry Schawartzنے ایک انٹرویو میں کہا کہ گذشتہ 60سال کے دوران فل برائیٹ سکالرشپ پروگرام کے تحت پاکستان اور امریکہ کے درمیان طالب علموں کا تعلیمی،ثقافتی اور تحقیقاتی مقاصد کے لیے تبادلہ جو عوام کی سطح پر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہواہے۔

تاہم امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ آنے والے وقت میں تبادلوں کے اس پروگرام کو وسعت دی جائے اور زیادہ سے زیادہ پاکستانی طالب علم امریکہ آئیں۔

XS
SM
MD
LG