رسائی کے لنکس

پشاور میں امریکی قونصل جنرل گیبرئیل سکوبر نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت بھی کئی ہزار پاکستانی طالب علم امریکہ میں زیر تعلیم ہیں جن میں سے لگ بھگ ایک چوتھائی کا تعلق خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں (فاٹا) سے ہے۔

امریکہ پاکستان میں مختلف سماجی شعبوں میں ترقی کے لیے طویل عرصے سے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے اور اس میں خاص طور پر تعلیم کے شعبے کو اہم حیثیت حاصل رہی ہے۔

پشاور میں امریکی قونصل جنرل گیبرئیل سکوبر نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت بھی کئی ہزار پاکستانی طالب علم امریکہ میں زیر تعلیم ہیں جن میں سے لگ بھگ ایک چوتھائی کا تعلق خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں (فاٹا) سے ہے۔

گیبرئیل سکوبر نے کہا کہ اُن کی ذاتی رائے میں خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں استحکام پاکستان کے لیے بہت اہم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اعانت کے پروگرام کے ذریعے اس خطے کے لوگوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے وہ فاٹا کو مستحکم اور خوشحال بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کی توجہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی ہے۔

گیبرئیل سکوبر کا کہنا تھا کہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم ہمارے پروگرام کا محور ہے کیوں کہ یہ شعبہ پاکستان میں عدم توجہی کا شکار رہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مقامی یونیورسٹیوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر بہت کام کیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ میں تعلیم مکمل کرنے والے پاکستانی وطن واپس آکر ملک کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اُن کے بقول ایسے طالب علم مشکل وقت میں دونوں ملکوں کے رابطوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں امریکی اعانت کی توجہ اُن علاقوں کے طالب علموں پر رہی جنہیں حصول علم کے مواقع میسر نہیں آتے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسے طالب علموں کے لیے انگریزی زبان سیکھنے کا ’انگلش ایکسس پروگرام‘ خاصا اہم ہے۔

گیبرئیل سکوبر کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں پاکستان کے لیے سب سے اہم دولت نوجوان ہیں اور اُن کی تعلیم پر سرمایہ کاری امریکہ کا اہم ہدف ہے۔

امریکہ پاکستان سمیت دنیا میں 150 ممالک میں ہونہار طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ’فل برائیٹ اسکالر شپ‘ کے ذریعے حصول علم کے مواقع فراہم کرتا ہے اور اس وقت اس پروگرام کے ذریعے سب سے زیادہ پاکستانی طالب علم امریکہ جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG