رسائی کے لنکس

جنرل راحیل امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات کریں گے


جنرل راحیل شریف
جنرل راحیل شریف

جنرل راحیل شریف اپنے پہلے سرکاری دورہ امریکہ کے دوران امریکی افواج کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سمیت مختلف قانون سازوں سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ان دنوں امریکہ میں ہیں جہاں اتوار کو ان کی امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات ہو رہی ہے۔

توقع ہے کہ اس موقع پر علاقائی سلامتی سمیت افغانستان میں بین الاقوامی افواج کے انخلا کے تناظر میں مختلف باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئیں گے۔

جنرل راحیل شریف اپنے پہلے سرکاری دورہ امریکہ کے دوران امریکی افواج کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سمیت مختلف قانون سازوں سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں جن میں دوطرفہ عسکری تعلقات کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات خاص طور پر عسکری روابط میں حالیہ برسوں میں خاصا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا لیکن 2010ء کے بعد کسی بھی پاکستانی آرمی چیف کے دورہ امریکہ کو مبصرین تعلقات میں بہتری کے طور دیکھ رہے ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے فوری طور پر کسی طرح کی پیش رفت کی توقع رکھنا قبل از وقت ہوگا۔

پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے اپنے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جون کے وسط سے بھرپور کارروائی شروع کی تھی جو حکام کے بقول طے شدہ منصوبے کے تحت کامیابی سے جاری ہے اور اس میں اب تک 1200 سے زائد ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی اس علاقے میں فوجی کارروائی کے لیے ایک عرصے سے پاکستان پر دباؤ ڈالتے آ رہے تھے لیکن پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ یہ کارروائی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔

جنرل راحیل شریف کے اس دورے میں امریکی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن بھی زیر بحث آیا۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور اور دیگر متعلقہ کمیٹیوں کے ارکان سے ہونے والی ملاقاتوں میں امریکی قانون سازوں نے پاکستانی فوج کی شدت پسندوں کے خلاف کامیابیوں کو سراہا۔

جنرل راحیل شریف کا سات روزہ سرکاری دورہ تو گزشتہ اتوار ختم ہو چکا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق انھوں نے بعض نجی امور کی وجہ سے اس میں توسیع کی۔

XS
SM
MD
LG