رسائی کے لنکس

45 لاکھ ڈالر کی لاگت سے تیارہ ہونے والا یہ مرکز 60 بستروں پر مشتمل ہے جہاں زچگی اور دیگر نسوانی امراض سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے آپریش اور علاج کی سہولت فراہم کی جائیں گی۔

پاکستان میں زچگی اور امراض نسواں کے لیے امریکی اعانت سے ایک جدید مرکز قائم کیا گیا ہے جس پر 45 لاکھ ڈالر لاگت آئی ہے۔

کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں تعمیر کیے جانے والے اس مرکز کی منگل کو ہونے والی افتتاحی تقریب سے خطاب میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا کہ اُن کا ملک پاکستانی عوام، بالخصوص نوجوان ماؤں اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو علاج معالجے کی معیاری سہولت فراہم کرنے کے لیے صحت کے شعبے میں اعانت فراہم کر رہا ہے۔

امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سفیر اولسن کا کہنا تھا کہ یہ مرکز زچگی سے متعلق عوارض، جو بچے کی پیدائش سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے سبب جنم لیتے ہیں، کے علاج کے حوالے سے امریکی عزم کا اظہار ہے۔

یہ مرکز 60 بستروں پر مشتمل ہے جہاں زچگی اور دیگر نسوانی امراض سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے آپریش اور علاج کی سہولت فراہم، 1300 سے زائد تربیتی عملے، طالب علموں کو معیاری تربیت کی فراہمی کے ذریعے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی استعداد میں اضافہ کرے گا۔

کراچی کی ایک معروف ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رخسانہ طارق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں زچگی کے دوران خواتین اور بچوں کی اموات کی شرح کو کم کرنے کے لیے ایسے مراکز کا قیام خوش آئند اقدام ہے۔

’’خاص طور سے دوران حمل خواتین کو صحت کے ساتھ ساتھ بہت سی بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے، ان کا بلڈ پریشر، ان کی غذائی ضرورت کے حوالے سے آگاہی وغیرہ، اور پھر نوزائیدہ بچوں کی اولین اور مناسب دیکھ بھال کے بارے میں ایسے مراکز بہت اہمیت رکھتے ہیں جو ناصرف آگاہی فراہم کرتے ہیں بلکہ علاج کی سہولتوں کے باعث بہت سی زندگیوں کو بچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔‘‘

پاکستان میں محتاط اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ حاملہ خواتین میں سے 260 زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں جس کی ایک بڑی وجہ تربیت یافتہ طبی عملے کی کمی اور صحت کی مناسب سہولتوں کا فقدان بتائی جاتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG