رسائی کے لنکس

جان کیری کے دورے سے دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوئے: دفتر خارجہ


اعزاز احمد چوہدری

اعزاز احمد چوہدری

اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ کئی اختلافی اُمور جن میں ڈرون حملوں کا معاملہ بھی شامل ہے، اُن کے بارے میں بھی امریکی وزیر خارجہ کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری جمعہ کو پاکستان کا دورہ مکمل کر کے اسلام آباد سے روانہ ہو گئے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس دورے نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی ایک واضح مثال طویل المدت شراکت داری کے اسٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی کا اعلان بھی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے جمعہ کو ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں کہا کہ اسٹریٹیجک مذاکرات کے تحت آئندہ چھ ماہ کے دوران توانائی، اقتصادی تعاون اور انسداد دہشت گردی سمیت دیگر شعبوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ورکنگ گروپوں کی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہو جائے گا۔

اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ کئی اختلافی اُمور جن میں ڈرون حملوں کا معاملہ بھی شامل ہے، اُن کے بارے میں بھی امریکی وزیر خارجہ کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کیا۔

’’امریکی حکومت پاکستان کے موقف سے اچھی طرح آگاہ ہے انھوں (امریکی وزیر خارجہ) نے کہا کہ ہمیں آپ کا موقف پتا ہے اور ہم اس کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ان کی اپنی کچھ ضروریات ہیں اور ان کا دیکھنے کا اپنا زاویہ ہے۔ لیکن ہماری طرف سے یہ نکتہ ان تک پہنچا اور ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اسے نوٹ کر لیا۔‘‘

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کے اس دورے میں افغانستان میں مصالحتی عمل خاص طور 2014ء میں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات پر بھی تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا یہ پہلا دورہ پاکستان تھا جس میں اُنھوں نے سیاسی و عسکری قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں دیگر اُمور کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت بھی کی گئی۔

اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ دشمن ہے اور اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے ہر گز استعمال نہیں ہونے دے گا۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

دفتر خارجہ میں جمعہ کو ہونے والی ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اعزاز چوہدری نے کہا کہ اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع امن مذاکرات کا عمل جلد بحال ہو جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سرکریک اور وولر بیراج کے معاملے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان نے تاریخ بھی تجویز کی ہے جس پر وہ بھارت کے جواب کا منتظر ہے۔
XS
SM
MD
LG