رسائی کے لنکس

امریکی سرمایہ کاری کے بعد 2011ء میں پاکستان کی آم کی برآمدت میں 60 فیصد اضافہ ہوا اور اس پھل کی کھیپ امریکہ بھی بھیجی گئی۔

پاکستانی آم کی پیداوار بڑھانے کے لیے امریکی اعانت سے سندھ اور پنجاب میں 15 منتخب باغات میں جدید پلانٹ نصب کیے گئے ہیں جہاں اس پھل کی عالمی معیار کے مطابق چھانٹی کر کے اسے امریکہ اور دیگر ملکوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔

اس شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کے بعد 2011ء میں پاکستان کی آم کی برآمدت میں 60 فیصد اضافہ ہوا اور اس پھل کی کھیپ امریکہ بھی بھیجی گئی۔ اس منصوبے کا اعلان امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے 2010ء میں دورہ اسلام آباد کے موقع پر کیا تھا اور انھوں نے اسے آموں کی سفارت کاری کا نام دیتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ اس سے دونوں ملکوں کے مابین عوامی رابطوں کے فروغ کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

لیکن رواں ہفتے اس منصوبے کو اس وقت دھچکا لگا جب آموں کی پیداوار سے منسلک باغات کے مالکان نے یہ کہہ کر امریکہ کو مزید برآمد کرنے سے معذوری ظاہر کر دی کہ یہ تجارت ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے۔

آم پیدا کرنے والے باغات کے مالکان کی نمائندہ تنظیم کے صدر زاہد حسین گردیزی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت کو اس مسئلے پر امریکی حکام سے بات چیت کرنی چاہیئے۔

’’کاشتکار یہاں بھی پیسے بھرتا ہے، ہوائی جہاز سے (آم) بھیجنے کے پیسے ادا کرتا ہے اور پھر شکاگو میں ٹریٹمنٹ پر ڈالر میں رقم ادا کرنا پڑتی ہے تو اس کی قیمت اتنی ہو جاتی تھی کہ عام آدمی اسے خرید نہیں سکتا تھا…. اس سال کاشت کاروں نے (امریکہ) آم بھیجنے کی کوشش بھی نہیں کی، کیوں کہ آگے انھیں وارا بھی کھاتا ہے۔‘‘

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی ایک ترجمان اروشا رانا کہتی ہیں کہ پاکستانی متعلقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ان کے تحفظات دور کرنے اور اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

’’امریکی حکومت پاکستانی حکومت اور کاشت کاروں کے ساتھ مل کر کچھ حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اروشا رانا نے مینگو ڈپلومیسی کو دھچکا لگنے کے تاثر کی نفی کی ہے۔

’’ہم آم کے کاشت کاروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان کو تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ کلنٹن جب یہاں آئی تھیں تو انھوں مینگو ڈپلومیسی کے بارے میں جو بات کی تھی تو وہ بالکل ڈپلومیسی جاری ہے۔‘‘

اروشا رانا نے بتایا کہ امریکی حکومت نے پاکستان میں آم کی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے کاشت کاروں کو اب تک 40 لاکھ ڈالر فراہم کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے ساڑھے چار ہزار کاشت کاروں کو تربیت جب کہ چھ ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے گئے۔

ترجمان اروشا رانا کہتی ہے کہ امریکی مالی اعانت سے پاکستان میں سیلاب سے متاثر چار ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے آموں کے باغات کی بحالی بھی کی گئی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG