رسائی کے لنکس

مضبوط شراکت داری کے لیے مسلسل رابطوں پر اتفاق


جنرل جان ایلن اور جنرل اشفاق پرویز کیانی (فائل فوٹو)

جنرل جان ایلن اور جنرل اشفاق پرویز کیانی (فائل فوٹو)

امریکی کمانڈر جان ایلن نے جنرل کیانی سے بات چیت میں کہا کہ اعلیٰ سطح پر ہونے والی ملاقاتیں پاک امریکہ تعلقات میں بھی مثبت پیش رفت کی عکاس ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی مہم میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے میں اتحادی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے جمعرات کو راولپنڈی میں ملاقات کی۔

فوجی کمانڈروں کی ملاقات کے بعد کابل اور راولپنڈی سے بیک وقت جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں عسکری رہنماؤں نے افغان، پاکستانی اور نیٹو افواج کے درمیان رابطوں کے تسلسل کی اہمیت کا ایک بار پھر یہ کہہ کر اعتراف کیا ہے کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کا بڑی حد تک انحصار دوطرفہ شراکت داری کی مضبوطی پر ہے۔

جنرل جان ایلن نے بات چیت کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح پر ہونے والی یہ ملاقاتیں پاک امریکہ تعلقات میں بھی مثبت پیش رفت کی عکاس ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی اور اتحادی افواج ایسی شراکت داری کی جانب بڑھ رہی ہیں جو پائیدار اور واضح ہو اور اس سے خطے میں سلامتی اور خوشحالی کو بھی فروغ حاصل ہو۔

پاکستانی فوج کے سربراہ کے بقول امریکی کمانڈر سے اُن کی ملاقات میں اسٹریٹیجک اُمور اور فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار سے متعلق اس دوسرے کا موقف سجمھنے میں مدد ملی ہے۔

بیان کے مطابق جنرل کیانی نے پاکستانی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام اور شفافیت ہونے چاہیئں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان، پاکستانی اور اتحادی افواج کے متعدد مفادات مشترک ہیں، جن میں اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مل جل کر کارروائی اور افغانستان میں امن و استحکام کے لیے مفاہمتی عمل کی حمایت شامل ہیں۔

پاکستانی میڈیا نے عسکری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جنرل کیانی نے نیٹو کمانڈر سے بات چیت کے دوران افغان سرحد کی جانب سے فوجی و شہری تنصیبات پر حملوں کا معاملہ بھی اُٹھایا اور جنگجوؤں کی ان مہلک کارروائیوں کو روکنے کے لیے افغان اور اتحادی افواج کو سرحد کی موثر نگرانی کرنے پر زور دیا۔

جولائی کے اوائل میں نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے رسد کی ترسیل کی بحالی اور رواں ہفتے اس ضمن میں باضابطہ تحریری معاہدے پر دستخط کے بعد نیٹو افواج کے کمانڈر کی جنرل کیانی سے یہ پہلی ملاقات تھی۔

اعلیٰ فوجی قائدین کی یہ بات چیت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام واشنگٹن میں امریکی حکام کے ساتھ انسداد دہشت گردی سے متعلق تعاون پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

نیٹو سپلائی لائنز سے متعلق تاریخی معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ نے اتحادی اعانتی فنڈ کی مد میں پاکستان کو واجب الادا ایک ارب دس کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم بھی جاری کر دی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG