رسائی کے لنکس

نیٹو رسد کی بندش تعلقات کے لیے نقصان دہ


نیٹو ساز و سامان کی پاکستان کے راستے ترسیل گزشتہ سات ماہ سے بند ہے۔ (فائل فوٹو)

نیٹو ساز و سامان کی پاکستان کے راستے ترسیل گزشتہ سات ماہ سے بند ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیرِ اعظم پرویز اشرف نے کہا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے رسد کی ترسیل پر پابندی نا صرف امریکہ بلکہ نیٹو سے منسلک 49 دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اسلام آباد میں منگل کو وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادرری کے ساتھ تعاون کرنے کے عزم پر ڈٹا ہوا ہے۔

’’پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر تعلقات چاہتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اُصولوں کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

پاکستانی وزیرِ اعظم نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ اُن کے ملک نے انسدادِ دہشت گردی کی عالمی کوششوں میں تعاون کی ’’بھاری قیمت‘‘ ادا کی ہے کیوں کہ فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران اور اہلکاروں کے علاوہ بڑی تعداد مین شہری بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

’’ہم پاکستان کے عظیم تر قومی مفادات کا موثر ترین انداز میں تحفظ کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔‘‘

سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی ’ڈی سی سی‘ کے اجلاس میں واشنگٹن میں پاکستان کی سفیر شیری رحمٰن بھی شرکت کر رہی ہیں۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستانی اور امریکی حکام کے درمیان تعلقات کی بحالی پر ہونے والی بات چیت میں مثبت پیش رفت کے اعلانات بھی کیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ


امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ اور پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے پیر کو اپنے بیانات میں کہا تھا کہ دوطرفہ مذاکرات میں بحیثیت مجموعی تمام اُمور پر بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم معظم احمد خان نے واضح کیا ہے کہ نیٹو سپلائی کی لائن کی بحالی سے متعلق تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

وکٹوریہ نولینڈ نے کہا تھا کہ امریکہ کی ایک ٹیم کے حالیہ دورہ پاکستان میں نیٹو سپلائی لائن کی بحالی سے متعلق ’’بہت سے تکنیکی معاملات کو حل کر لیا گیا ہے لیکن اس بارے میں سیاسی سطح پر بات چیت جاری رکھنا ہو گا‘‘۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ممالک نے رسد کی بحالی سے متعلق معاہدے کے مسودے کو حتمیٰ شکل دے دی ہے اور عنقریب نیٹو سپلائی لائن کی بحالی متوقع ہے۔

پاکستان نے نومبر 2011ء میں مہمند ایجنسی میں نیٹو کے فضائی حملے میں 24 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر احتجاجاً رسد کے قافلوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی تھی، جو سات ماہ گزرنے کے بعد بھی برقرار ہے۔
XS
SM
MD
LG