رسائی کے لنکس

ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ختم کرنے کے معاہدے کے لیے امریکہ اور پاکستان میں مخالفت


ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ختم کرنے کے معاہدے کے لیے امریکہ اور پاکستان میں مخالفت

ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ختم کرنے کے معاہدے کے لیے امریکہ اور پاکستان میں مخالفت

امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق امریکہ اگلے ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی کے لیے پیش کیے جانے والے معاہدے میں پاکستان پر شامل ہونے کے لیئے دباؤ ڈالے گا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ مگر ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے کام کرنے والی ایک نجی تنظیم آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے Daryl Kimball کہتے ہیں کہ امریکہ کی اس کوشش کا دونوں ممالک کے تعلقات سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں Fissile Material Cut-off Treaty یعنی FMCT کے لیے جن کوششوں کا امریکہ نےارادہ کیا ہے وہ یہ ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے عالمی کوششوں کا حصہ ہیں۔

پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو بند کرنے کے لیے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والی کانفرنس میں اس معاہدے کو روک رکھا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق FMCT میں پاکستان کو شامل کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے میں امریکہ کو پی 5 یعنی اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے چار دیگر مستقل رکن ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان ممالک میں چین بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ چین نے امریکہ بھارت سول نیوکلیئر معاہدے کے بعد پاکستان کے ساتھ اسی طرز کا سول نیوکلیئر معاہدہ کیا تھا جس کے تحت وہ پاکستان کو دو ایٹمی بجلی گھر دے گا۔

اوباما انتظامیہ دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں صدر اوباما نے امریکہ اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کو کم کرنے کے لیے گزشتہ سال START نامی معاہدہ کیا تھا۔

ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے دنیا کے 65 ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے مل کر CD یعنی کانفرنس آن ڈِس آرما منٹ کے تحت مذاکرات کرتے رہے ہیں مگر وہ کسی معاہدے پر اس لیے نہیں پہنچ سکے کیونکہ اس کے لیے تمام رکن ممالک کی رضا مندی ضروری ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں نئے ہتھیار بنانے سے روکنے کے ساتھ پہلے سے موجود ہتھیاروں کو ختم کرنے کی شق بھی شامل کی جائے کیونکہ کوئی بھی ملک نئے ہتھیار بنا کر انہیں پرانے ہتھیار بتا سکتا ہے۔

پاکستان کو اپنے ہمسایہ ملک بھارت سے سیکورٹی خدشات لاحق ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس ایک ہی تعداد میں ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ بھارت کے پاس 140 ایٹمی ہتھیار بنانے اور پاکستان کے پاس ایک سو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ایٹمی مواد موجود ہے۔ Bruce Macdonald ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں ان کا تعلق یونائٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے سے موجودہ ہتھیاروں کو ختم کرنے کے بارے میں پاکستان کا موقف کچھ حد تک درست ہے۔ مگر پاکستان مذاکرات میں شامل ہو کر ہی اپنے مطالبات منوا سکتا ہے۔ کیونکہ جیسے ہم نے START یا ایٹمی ہتھیاروں کی کمی کے لیے کئے جانے والے دیگر معاہدوں میں دیکھا ہے کہ آپ مذاکرات میں شامل ہوتے ہیں اور اپنے مطالبات سامنے لاتے ہیں۔ تو اگر پاکستان موجودہ ہتھیاروں کو ختم کرانا چاہتا ہے تو اس کے لیے راستہ یہ ہے کہ پہلے نئے ہتھیاروں کی تیاری کو روکا جائے۔ یا ابتدائی طور پر ہتھیاروں کی تیاری کی رفتار متعین کی جائے۔

MacDonald کے مطابق اگر پاکستان FMCT میں شامل ہوجائے تو بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری بھی رک جائے گی۔ کیونکہ اگر پاکستان ہتھیاروں کی تیاری کو روکنے کے معاہدے میں شامل ہوا تو بھارت کی طرف سے ہتھیاربنانے کے لیے استعمال ہونے والے ایٹمی مواد کی تیاری رک جائے گی۔ جس سے پاکستان کے سیکورٹی خدشات کچھ حد تک کم ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان اپنے موجودہ معاشی حالات کے ساتھ اس دوڑ میں بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ بھارت کی معیشت پاکستان سے کئی گنا بہتر ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اگلے مہینے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو روکنے کے لیے کسی معاہدے میں شامل نہیں ہو گا کیونکہ کانفرنس آن ڈِس آرمامنٹ میں ایسے کسی معاہدے پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے جو کسی رکن ملک کےسیکورٹی مفادات کے خلاف ہو۔ مبصرین کہتے ہیں کہ پاکستان مذاکرات میں شامل ہو کر اپنے مطالبات رکن ممالک کے سامنے پیش کر سکتا ہے اور اس پر بات کر سکتا ہے ۔ اور اگر پاکستان کو حتمی معاہدے کی شقوں پر اعتراض ہو تو وہ اس پر دستخط کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG