رسائی کے لنکس

’پاکستانی حدود میں غیرملکی افواج کی موجودگی ناقابل برداشت‘


’پاکستانی حدود میں غیرملکی افواج کی موجودگی ناقابل برداشت‘

’پاکستانی حدود میں غیرملکی افواج کی موجودگی ناقابل برداشت‘

امریکی اخبار نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کمانڈر اس تجویز پر غور کر رہے ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف سرحدی علاقوں میں کی جانے والے زمینی کارروائیوں کا دائرہ پاکستانی علاقوں تک بڑھایا جائے۔ تاہم منگل کو نیٹوافواج کے ایک اعلیٰ عہدے دارنے کہا ہے کہ یہ خبر سچائی پر مبنی نہیں ۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے واضح کیا کہ غیر ملکی افواج کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور پاکستان کا یہ موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف امریکی اسپیشل فورسز کی زمینی کارروائیوں کی مبینہ منصوبہ بندی کے بارے میں نیویارک ٹائمز کی خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اپنی سرحدوں کے اندر عسکریت پسندوں سے نمٹنے کی اہل ہے ۔

سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق حسین حقانی کے بقول کسی غیر ملکی فوج کو پاکستانی حدود میں نہ تو کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ان کی اجازت دی جائے گی۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اتحادیوں خصوصا ًامریکہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے اور اُن کی طرف سے ملنے والی فوجی امداد کو سراہتا ہے۔

امریکی اخبار نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کمانڈر اس تجویز پر غور کر رہے ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف سرحدی علاقوں میں کی جانے والے زمینی کارروائیوں کا دائرہ پاکستانی علاقوں تک بڑھایا جائے۔ تاہم منگل کو نیٹوافواج کے ایک اعلیٰ عہدے دارنے کہا ہے کہ یہ خبر سچائی پر مبنی نہیں ۔

کابل میں جاری ہونے والے بیان میں ریئر ایڈمرل گریگوری سمتھ نے کہا ہے کہ افغانستان میں تعینات نیٹو ، امریکی اور افغان افواج نے سلامتی کے مشترکہ امور پر پاکستانی فوج کے ساتھ مضبوط پیشہ وارانہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں ۔ اُن کے بقول عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کا خلاف کارروائیوں کے لیے جاری اس تعاون میں افغانستان اور پاکستان کی علاقائی خود مختاری کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG