رسائی کے لنکس

پاکستان سے روابط پر اوباما انتظامیہ تقسیم کا شکار: رپورٹ


پاکستان سے روابط پر اوباما انتظامیہ تقسیم کا شکار: رپورٹ

پاکستان سے روابط پر اوباما انتظامیہ تقسیم کا شکار: رپورٹ

اعلیٰ امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان سے روابط کے معاملے پر تقسیم کا شکار ہے جب کہ دوطرفہ تعلقات کا مستقبل بھی غیر واضح نظر آتا ہے۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی ثابت ہونے کے بعد اوباما انتظامیہ میں شامل کئی عہدے داروں کا خیال ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز اور انتہا پسند تنظیموں کے مبینہ روابط کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔

گذشتہ کئی سالوں کے دوران کی گئی تنبیہات کے بعد متعدد امریکی حکام اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ واشنگٹن کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اُس نے وہ تحریری دستاویز حاصل کر لی ہیں جن میں گذشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان اور امریکی حکام کے درمیان ملاقاتوں میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات درج ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اُنھیں ایسے شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہو سکے کہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو بن لادن کی ملک میں موجودگی کا علم تھا یا اُنھوں نے باضابطہ طور پر اُس کی معاونت کی اجازت دے رکھی تھی۔

وائٹ ہاؤس سے منسلک بعض عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ سے ملنے والی اشیاء تک امریکی حکام کو رسائی دینے سے انکار کرتا ہے تو واشنگٹن کو سخت انتقامی ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

دو مئی کو ایبٹ آباد میں کی گئی 40 منٹ کی کارروائی میں امریکی کمانڈوز بن لادن کے زیر استعمال قلعہ نما گھر سے بڑی تعداد میں کاغذات اور کمپیوٹر ڈرائیوز اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کو ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ کچھ حکام متبادل اقدامات پر غور کرنے پر بھی زور دے رہے ہیں کیوں کہ اُن کے مطابق اوباما انتظامیہ کا کوئی اہلکار ”جلد بازی میں غلط فیصلہ کرنے کے حق میں نہیں ہے۔“

اخبار کا کہنا ہے کہ ہر اقدام مثلاً امریکی امداد اور رابطوں میں کمی یا دہشت گردوں سے متعلق اہداف کے خلاف یکطرفہ زمینی حملوں کی صورت میں پاکستان کی طرف سے فراہم کیے جانے والا تعاون متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں فوجی کامیابیوں اور بالآخر لڑائی بند کرنے کے لیے طرفین کے درمیان بات چیت کے ذریعے معاہدہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ناممکن ہے۔

XS
SM
MD
LG