رسائی کے لنکس

پاک امریکہ تعلقات میں مزید کشیدگی آسکتی ہے، لیکن یہ ٹوٹیں گے نہیں: تجزیہ کار


پاک امریکہ تعلقات میں مزید کشیدگی آسکتی ہے، لیکن یہ ٹوٹیں گے نہیں: تجزیہ کار

پاک امریکہ تعلقات میں مزید کشیدگی آسکتی ہے، لیکن یہ ٹوٹیں گے نہیں: تجزیہ کار

دفاعی تجزیہ کار اسد منیر کے بقول، پچھلے سال جون میں ہونے والے افغان جرگے کے پسِ منظر میں صدر کرزئی نے امن کا جو ’اِنی شئیٹو‘ لیا ہے اور جِن اقدامات کی سفارش کی گئی ہے ، اُس پر، اُن کے بقول، آہستہ آہستہ عمل ہو رہا ہے اور کسی مرحلے پر جب یہ بات چیت کریں گے اور مصالحت سے حکومت بنے گی ’تو یہ مسئلہ حل ہوگا‘ عائشہ صدیقہ کے مطابق پاکستان امریکہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی آسکتی ہے، لیکن، اُن کے بقول، ’یہ ٹوٹیں گے نہیں‘

آئے دِٕن مختلف حلقوں میں ملا عمر اور طالبان مجلسِ شوریٰ کی مبینہ طور پرپاکستان کی موجودگی کے بارے میں خبریں گردش کرتی ہیں، اورامریکی عہدے داروں کی طرف سےشمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی پر زور دیا جاتا ہے۔

بدھ کے روز ’وائس آف امریکہ‘سے گفتگو میں قبائلی علاقوں میں انٹیلی جنس کے سابق سربراہ، برگیڈئیر اسد منیر کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پاکستان افغانستان سے متعلق امریکی صدر کے ایلچی مارک گروسمین اور کابل میں امریکی سفیر کے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کی خلاف لڑائی میں مزید نتائج دکھائے جائیں۔ اِس سلسلے میں اُنہوں نے صدر بارک اوباما کی نشری تقریر اور اُن کی طرف سے ’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو کا حوالہ بھی دیا۔

اسد منیر کے خیال میں یہ بیانات شمالی وزیرستان میں آپریشن کے’ جواز کی ایک کوشش ہے‘۔ اُن کے بقول، امریکہ سمجھتا ہے کہ ’یہ مسئلہ‘ دراصل پاکستان میں ہے، افغانستان میں نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی عہدے دار اِس طرح کے بیانات دے رہے ہیں، تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر اُن سے کہیں کہ آپ شمالی وزیرستان میں آپریشن کریں۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ،’شمالی وزیرستان میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے‘۔

اسد منیر نے کہا کہ پچھلے سال جون میں ہونے والے افغان جرگے کے پسِ منظر میں صدر کرزئی نے امن کا جو ’اِنی شئیٹو‘ لیا ہے اور جِن اقدامات کی سفارش کی گئی ہے ، اُس پر، اُن کے بقول، آہستہ آہستہ عمل ہو رہا ہے اور کسی مرحلے پر جب یہ بات چیت کریں گے اور مصالحت سے حکومت بنے گی ’تو یہ مسئلہ حل ہوگا‘۔

ملا عمر اور طالبان شوریٰ کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ ایسی خبریں اکثرو بیشتر مغربی ممالک کے اخبارات میں گردش کرتی ہیں، لیکن ’ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ‘۔

ملا عمر کے معاملے ہی پر دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ فریقین اپنی بات کر رہے ہیں، جِن کے پاس اپنی اپنی انٹیلی جنس ہوگی۔ لیکن اُنھوں نے پاکستانی وزیر دفاع کے بیان کے حوالے سے سوال کیا کہ وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دو مئی کے بعد ملا عمر پاکستان سے چلے گئے ہیں۔ اُنھوں نے سوال کیا: ’کیا اِس سے یہ سمجھا جائے کہ اُس سے پہلے وہ یہاں تھے؟‘

پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ اِن میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے، لیکن اِس سے قطعاً یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں ملک دو الگ الگ کناروں پر پہنچ جائیں گے۔

عائشہ صدیقہ کے مطابق پاکستان امریکہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی آسکتی ہے، لیکن، اُن کے بقول، یہ ٹوٹیں گے نہیں۔’لیکن یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے کہ دونوں قریب آتے ہیں اور پھر اُن کی سوچ مختلف ہوجاتی ہے۔ لیکن، چونکہ پاکستان کی امریکہ، عالمی بینک اور بین الاقوامی مالی ادارے پر اتنا معاشی انحصار ہے کہ یہ نہیں ہوگا کہ یہ تعلق ٹوٹ جائے۔

اِس سوال پر کہ کونسےایسے عوامل ہیں جِن کی بنا پر شدت پسند پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اپنےلیے محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں، عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ سالہا سال سے پاکستان میں ایسے نظرئے اور عوامل کو پالا پوسا گیا ہے ، پھر یہ کہ یہاں کے شہروں میں بھی شدت پسندوں کے لیے حمایت موجود ہے کہ یہاں چھپا جاسکتا ہے، اور پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو انتہا پسند عناصر کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہی عوامل ہیں جِن کےباعث امریکہ پاکستان پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG