رسائی کے لنکس

پاک امریکہ اسٹریٹیجک مذاکرات آئندہ سال فروری میں


پاکستانی دفتر خارجہ

پاکستانی دفتر خارجہ

وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے ایوان کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدت شراکت داری کے اسٹریٹیجک مذاکرات کے آغاز سے قبل مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے لیے قائم چھ میں سے چار ورکنگ گروپوں کے اجلاس ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے اعلٰی سفارت کار نے ملک کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا کہ امریکہ سے اسٹریٹیجک مذاکرات کا آغاز آئندہ سال فروری میں ہو گا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے ایوان کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدت شراکت داری کے اسٹریٹیجک مذاکرات کے آغاز سے قبل مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے لیے قائم چھ میں سے چار ورکنگ گروپوں کے اجلاس ہو چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹیجک مذاکرات کا عمل 2011ء میں تعطل کا شکار ہو گیا تھا جس کی وجوہات میں لاہور میں خفیہ امریکی ادارے سی آئی سے نجی حیثیت میں وابستہ اہلکار ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کی ہلاکت اور مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے روپوش سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن شامل ہیں جب کہ اسی سال نومبر میں مہمند ایجنسی میں ایک پاکستانی چوکی پر نیٹو کے فضائی حملے میں دو درجن سے زائد پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت نے بھی اس عمل کے تعطل کو طول دیا۔

تاہم رواں برس اگست میں امریکی وزیر خارجہ جاری کیری کے دورہ پاکستان کے موقع پر اسٹریٹیجک مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا جب کہ اس سے قبل مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے ورکنگ گروپس کے اجلاس ہوتے رہے۔

گزشتہ مہینے کے اواخر ہی میں واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے مشاورتی گروپ کا اجلاس ہوا تھا جس میں سلامتی سے متعلق اُمور میں دوطرفہ تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک حالیہ بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے اکتوبر میں دورہ امریکہ اور اُن کی صدر براک اوباما سے ملاقات نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کی ہے۔
XS
SM
MD
LG