رسائی کے لنکس

تحقیقات میں مدد کے لیے امریکہ کی پاکستان سے باضابطہ در خواست

  • ن ہ

امریکہ نے نیویارک کے ٹائمزا سکوائر میں بم دھماکا سازش میں مبینہ طور پر ملوث پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزادکی تحقیقات میں مدد کے لیے ہفتے کو باضابطہ طور پر پاکستان سے درخواست کر دی ہے۔ یہ انکشاف وزیر داخلہ رحمن ملک نے اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکی حکام نے اس سلسلے میں جو معلومات فراہم کی ہیں اُن کے مطابق فیصل شہزاد اکثر جنوبی وزیرستان سے جا کر طالبان کی قیادت سے ملاقاتیں کرتا رہا ہے اور جن شدت پسندرہنماؤں سے وہ رابطے میں تھا اُن میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے علاوہ قاری حسین بھی شامل ہے جو خودکش بمباروں کو تربیت دینے کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔

وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ پاکستانی حکام اِن بیانات کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں اگر یہ درست ہیں تو پھر کہیں نہ کہیں کوئی دستاویزی ثبوت یا دوسرے شواہدضرور ہونے چاہئیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرات کا خود اُن کے اپنے ملک کو بھی سامنا ہے اس لیے نیویارک میں بم دھماکا سازش میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں پاکستان امریکہ کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اُن اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں کہ امریکی ایف بی آئی کی ایک ٹیم فیصل شہزاد کے رشتہ داروں اور دوستوں سے پوچھ گچھ کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تحقیقات پاکستان کے اپنے ادارے کریں گے اور کسی غیر ملکی ٹیم کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ تحقیقات انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

فیصل شہزاد (فائل فوٹو)

فیصل شہزاد (فائل فوٹو)

واضح رہے کہ امریکی حکام کے مطابق زیر حراست مشتبہ دہشت گرد فیصل شہزاد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ نیویارک کے ٹائمزا سکوائر میں بارود سے بھری گاڑی اُس نے کھڑی کی تھی اوردہشت گردی کی کارروائیوں کی تربیت اُس نے وزیر ستان میں حاصل کی تھی۔ اس30 سالہ پاکستانی نژاد امریکی شہری کا تعلق خیبر پختون خواہ صوبے کے ایک گاؤں محب بانڈہ سے ہے اور وہ پاکستان ایئر فورس کے سابق ایئر وائس مارشل بہار الحق کا بیٹا ہے۔

قریبی رشتہ داروں اور گاؤ ں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ فیصل کا تعلق ایک انتہائی باعزت اور قابل احترام خاندان سے ہے اس لیے اُنھیں نیویارک کے واقعے میں فیصل کے ملوث ہونے پر حیرت ہے ۔

XS
SM
MD
LG